۔2050ء تک دنیا کے کئی ملین افراد کے لقمہ اجل کا باعث
پیرس۔7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ماہرین نے آج پیش گوئی کی ہے کہ سوپر بگس بیکٹیریا انفکشن کے باعث یوروپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا کے کئی ملین افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور اس کے خلاف جنگی اقدامات ناگزیر ہیں۔ آرگنائزیشن فار اکنامکس اینڈڈیولپمنٹ (OECD) نے آگاہ کیا ہے کہ جب تک کہ صحت عامہ خرچ ا ور صحت و صفائی کا خیال نہ رکھا جائے اور اینٹی بیوٹک ادویات کی پیداوار میں کٹوتی جاری رہے گی اس ہلاکت خیز بیکٹیریا کے پھیلائو سے نجات ناممکن ہے اور ای سی ڈی نے اپنی تاریخی رپورٹ میں ذکر کیا ہے کہ 2050ء تک تقریباً 2.4 ملین افراد لقمہ اجل بن جائیں گے اور اس بیکٹیریا کے علاج و معالجہ پر سالانہ 3.5 بلین ڈالر (تین بلین یوروز) کا صرفہ آئے گا۔ OECD کے ایک عہدیدار مشل سیچن نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومتیں پہلے سے ہی اپنے بچت کا دس فیصد ہیلت کیر Antmicr-bial Resistant (AMR) بگس پر خرچ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ AMR کا خرچ فلو، HIV اور TB سے زیادہ ہوتا ہے اور حکومت اس کی روک تھام کے لیے بروقت حرکت میں نہ آئے تو اس کا خرچ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس بیکٹیریا کی ادویات اور تدابیر اس وقت بے فیض ہوجاتی ہے جب انسان کثرت سے اینٹی بیوٹکس چاہے وہ زراعت اور جانور کو دیئے جانے والے ادویات کی شکل میں صرف کرتا ہے۔