سزائے موت پانے والے آسٹریلیائی ملزمین کے ساتھ غیر انسانی سلوک

سڈنی 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا نے بالآخر سرکاری طور پر انڈونیشیاء سے شکایت کی ہے کہ جو دو آسٹریلیائی جنہیں سزائے موت دی جانے و الی ہے ‘ ان کے ساتھ سزا پر عمل آوری سے قبل ہی غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم ٹونی اباٹ نے آج شکایت سے متعلق لب کشائی کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا جبکہ یہ خبریں بھی مل رہی ہیں کہ آسٹریلیائی ملزمین کی سزائے موت پر عمل آوری کو دس دنوں تک آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ملزمین اینڈریو چان اور میورن سکمارن جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور جنہیں نام نہاد ’’بالی نائن ‘‘ نامی ٹولی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں جاوا منتقل کیا گیا ہے تا کہ اُن کی سزائے موت پر عمل آوری کی جاسکے تاہم آسٹریلیا کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ملزمین کو بالی سے سزائے موت کے مقام تک منتقل کرنے کیلئے سکیوریٹی کے ناقص انتظامات تھے جہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اپنے سیلفی نکالنے میں مشغول تھے۔ ٹونی اباٹ نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی جہاں پولیس اہلکاروں کو ملزمین کے ساتھ سیلفی نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنہیں آسٹریلیا کی عوام دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف پولیس اہلکار سیلفی نکالنے میں مشغول ہیں تو دوسری طرف ملزمین کے چہروں کا رنگ اُڑا ہوا نظر آرہا ہے ۔ لازمی بات ہے کہ جن کے سروں پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے وہ بھلا کس طرح مسکرائیں گے یا تصویریں کھنچوائیں گے ۔ اباٹ نے کہا کہ تصاویر کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے دل میں سزائے موت پانے والے ملزمین کیلئے بھی ہمدردی یا احترام کا جذبہ نہیں ۔

دونوں آسٹریلیائی ملزمین کی عمریں 30 سال بتائی گئی ہیں جو 2006 ء میں انڈونیشیاء سے ہیروئن اسمگل کرنے کی پاداش میں گرفتار کئے گئے تھے۔ حال ہی میں صدر کے پاس روانہ کی گئی اُن کی رحم کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا حالانکہ آسٹریلیاء نے آخری لمحات تک آسٹریلیائی ملزمین کو بچانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہوا ۔ یہ دونوں آسٹریلیائی منشیات کے دیگر ملزمین کے گروپ میں شامل ہیں جن میں بیرون ممالک جیسے فرانس‘ برازیل‘ فلپائن نائجیریا اور گھانا سے تعلق رکھنے والے میںشامل ہیں۔ عام طور پر سزائے موت (یعنی فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کرنے ) سے قبل 72 گھنٹوں کی نوٹس سربراہ کی جاتی ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ان ملزمین کی سزائے موت پر عمل آوری کو مزید دس دنوں تک آگے بڑھادیا گیا ہے۔