سزائے موت ناقابلِ قبول : پوپ فرانسس

ویٹیکن سٹی۔ 21مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ دورِ حاضر میں سزائے موت ناقابلِ قبول امر ہے قطع نظر اس کے کہ جرم کتنا بھی سنگین کیوں نہ ہو۔ انھوں نے یہ بات ویٹیکن میں سزائے موت کے خلاف کام کرنے والے ایک کمیشن کے ارکان سے ملاقات میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ موت کی انتہائی سزا زندگی کی پاکیزگی اور انسانی وقار کے خلاف ایک حملہ ہے، پھانسی دینے سے متاثرین کو انصاف نہیں ملتا بلکہ بدلے کو ہوا ملتی ہے۔ کسی شخص کی جان لینے کا کوئی ہمدردانہ طریقہ نہیں ہے۔ سزائے موت کے خلاف کام کرنے والے کمیشن کے نام اپنے خط میں انھوں نے لکھا کہ سزائے موت کسی بھی شخص کے حالیہ غصے پر نہیں بلکہ اس کے ماضی کے فعل پر دی جانی والی سزا ہے۔’’سزائے موت ایک ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جس میں انصاف کے نام پر کسی کو قتل کر دیا جاتا ہے‘‘۔ انھوں نے امریکہ کا نام لئے بغیر کہا کہ ’’بعض لوگ یہ بحث کر رہے ہیں کہ کسی کو مارنے کیلئے کونسا طریقہ بہتر ہے۔ جیسے کہ ان کے خیال میں انھیں کوئی مناسب طریقہ مل جائے گا‘‘۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں کہا تھا کہ زندہ رہنا کسی بھی شخص کا بنیادی انسانی حق ہے۔ مون نے یہ بیان پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی کے خاتمے کے بعد دیا تھا۔ ان کے بقول ’’اکیسویں صدی میں پھانسی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ دنیا میں سزائے موت دیے جانے کا رجحان ختم ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کے 160 سے زائد رکن ممالک نے سزائے موت دینا ختم کر دیا ہے یا پھر پھانسیوں پر عملدرآمد روک دیا ہے‘‘۔ انسانی حقوق کمشنر نے کہا کہ دنیا کوئی بھی عدالت مکمل طور پر بے خطا نہیں ہو سکتی۔