حیدرآباد 15 فروری (راست) بعثت نبوی سے قبل پوری دنیا فتنہ و فساد اور ضلالت و گمراہی کے عمیق دلدل میں تھی۔ یہ اقلیم عدل و انصاف، کشور فضل و احسان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے سایہ عاطفت اور آغوش رحمت کی تربیت کا ہی فیضان تھا کہ عرب کی انتہائی درشت مزاج قوم جو کبھی اونٹ کو زخم پہنچانے پر آپس میں چالیس سال تک برسر پیکار رہا کرتی تھی۔ یہی قوم قلیل عرصہ میں نہ صرف علوم و فنون میں ماہر ہوگئی بلکہ علوم و فنون کی موجد بن گئی اور ساری دنیا کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ جو لوگ انسان ہونے کے باوجود انسانیت سے ناآشنا تھے، وہی آج رہبران قوم بن گئے۔ یہ سب حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فیضان تھا اور لوگ جوق درجوق دامن اسلام سے وابستہ ہوتے چلے گئے اور تاقیام قیامت یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دینی اقامتی درسگاہ کلیۃ البنین مغلپورہ میں منعقدہ دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا حافظ محمد مستان علی قادری بانی و ناظم جامعۃ المؤمنات نے نگرانی کی۔ مولوی سید شوکت علی شاہ قادری کی دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا۔