سرکاری فلاحی اسکیمات کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں

حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حکومت کی فلاحی اسکیمات کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے کیلئے عہدیداروں کو مشترکہ مساعی کرنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نظم و نسق کو بہتر بنانے اور عوام کو اسکیمات کے فوائد پہنچانے کے سلسلہ میں تمام محکمہ جات اور عہدیداروں کو ایک ہی رُخ پر کام کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے دو روزہ کلکٹرس کانفرنس کا آج افتتاح کیا۔ انہوں نے کلکٹرس اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ نظم و نسق میں محکمہ جات کی جانب سے بنائی گئی مصنوعی دیواروں کو ڈھادیں اور مکمل یکسوئی کے ساتھ سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہ جب تک سارا نظم و نسق مکمل یکسوئی کے ساتھ کام نہیں کرے گا اس وقت تک حکومت کی اسکیمات عوام تک نہیں پہنچ پائیں گی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو یاد دلایا کہ اگرچہ انہوں نے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دی ہیں لیکن حکومت ایک چھتری کی طرح ہے جس کے تحت تمام محکمہ جات ہیں۔ لہذا عہدیداروں کو سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ کام کرتے ہوئے حکومت کی اسکیمات کو کامیاب بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جات میں دفتریت کے نظام نے عوام کو حکومت سے دور کردیا ہے اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ نظم و نسق تک پہنچنے میں کافی رکاوٹیں ہیں یہی اہم وجہ ہے جس کے تحت عوام اور حکومت کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ ترقی اور فلاحی کاموں میں عوام کو حصہ دار بنائیں۔ انہوں نے کلکٹرس کو مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھلائی سے متعلق اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔ چیف منسٹر نے امن و ضبط کی صورتحال، ہر گھر پانی کی سربراہی اور برقی قلت سے نمٹنے سے متعلق اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس سے کہا کہ وہ ریاست میں بہتر سرمایہ کاری کیلئے اراضیات کی نشاندہی کریں تاکہ نئی صنعتوں کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت سے عوام کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر کارکردگی کے ذریعہ عوام کی توقعات پر پورا اُتریں۔ بھلائی سے متعلق اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچانے کا مشورہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے خلاف انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو نئے راشن کارڈس جاری کئے جارہے ہیں وہ حقیقی مستحقین تک پہنچنے چاہیئے اور اس کے فوائد غیر مستحق افراد کو حاصل نہ ہو اس کی ذمہ داری کلکٹر اور دیگر ذمہ داروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر گھر کو نل کا کنکشن فراہم کرتے ہوئے صاف پانی سربراہ کرنے اور ہر گھر کیلئے بیت الخلاء کی تعمیر کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔ امن و ضبط کی صورتحال کی برقراری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ جب تک امن و ضبط کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی اس وقت تک ترقی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام کو مل کر ریاست کی ترقی اور سنہری تلنگانہ کی تشکیل کی مساعی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کی تکمیل کیلئے امن و ضبط کی صورتحال کی بہتری اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کے سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عہدیداروں کو بھی چاہیئے کہ وہ اس سلسلہ میں سخت اقدامات کریں۔ حکومت کے واٹر گرڈ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں تلنگانہ کے ہر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس پروگرام پر عمل آوری میں ناکام ہوگی تو وہ عوام سے دوبارہ ووٹ کیلئے رجوع نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہذب سماج میں عوام کو پینے کے پانی کی سربراہی حکومت کا اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبہ کیلئے پانی سیراب کرنے حکومت نے مشن کاکتیہ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام میں عوام کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن کاکتیہ کے تحت تلنگانہ کے تمام تاریخی اور قدیم تالابوں اور جھیلوں کا تحفظ کیا جارہا ہے تاکہ انہیں فصلوں کو سیراب کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 1956سے قبل تلنگانہ میں 20لاکھ ایکر اراضی کو پانی سیراب کیا جارہا تھا لیکن متحدہ آندھرا پردیش میں حکمرانوں نے تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو نظر انداز کردیا۔ انہوں نے اضلاع میں صنعتوں کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی کے تحت لینڈ بینک کے قیام کا مشورہ دیا۔ برقی صورتحال پر قابو پانے کیلئے حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ جاریہ سال سے ریاست میں کسی بھی شعبہ میں برقی کی کٹوتی نہیں ہوگی۔ آئندہ تین برسوں میں برقی کی پیداوار کے سلسلہ میں حکومت 91ہزار 500کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے برقی عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ برقی صورتحال پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد ریاست کو تاریکی سے بچانا اور بلاوقفہ برقی کی سربراہی حکومت کا اہم مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم آر ایف کمپنی کے وفد نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ میں ملک کا سب سے بڑا الٹرا میگا پاور پراجکٹ قائم کیا جارہا ہے جس کے لئے اراضی کے حصول کے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔