سرکاری فلاحی اسکیمات میں بے قاعدگیاں اور دھاندلیاں، جامع سروے کی عدم موجودگی سے مستحق افراد اسکیمات سے محروم

حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے کہا کہ ریاست میں جامع سروے کی عدم موجودگی کے باعث مختلف فلاحی اسکیمات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کا ارتکاب کیا گیا۔ سرکاری اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے اسکامس کو روکنے کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ میں گھر گھر جامع سروے کا فیصلہ کیا ہے جس سے حقیقی طور پر مستحق افراد حکومت کی اسکیمات سے مستفید ہوپائیں گے۔ پارٹی کے ارکان اسمبلی ایس وینوگوپال چاری، جی بالراجو اور ای سرینواس نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جامع سروے کی تکمیل کے سلسلہ میں حکام سے تعاون کریں۔ سروے میں حصہ لیتے ہوئے عوام مستقبل میں سرکاری اسکیمات سے بہتر طور پر استفادہ کے موقف میں ہوں گے۔ وینوگوپال چاری نے کہا کہ ملک میں ابھی تک جتنے سروے کئے گئے وہ نامکمل ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں مختلف اسکامس منظر عام پر آرہے ہیں۔ انہوں نے جامع سروے کے انعقاد پر تلگودیشم اور بی جے پی کے اعتراض کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ اس تاریخی کام میں حکومت سے تعاون کریں۔ وینوگوپال چاری نے تلگودیشم اور بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ جامع سروے کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ سیاسی مقصد براری کیلئے اپوزیشن جماعتیں اس اہم مسئلہ پر بھی عوام میں اُلجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جامع سروے کی تجویز کوئی نئی نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں مباحث ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے تمام خاندانوں کے جامع سروے کے انعقاد کیلئے ریاستوں کی ہدایت دی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ ٹی آر ایس قائدین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سروے کے بارے میں اندیشوں کا شکار نہ ہوں اور حکام سے مکمل تعاون کریں کیونکہ یہ سروے عوام کے مفاد میں کیا جارہا ہے۔انہوں نے میڈیا کے بعض گوشوں کی ان خبروں کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ حکومت مرکز سے بہتر تعلقات بنانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو چاہیئے کہ وہ دیگر ریاستوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کررہا ہے اسی طرح کا سلوک تلنگانہ کے ساتھ بھی روا رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم کی تعمیر، گورنر کو زائد اختیارات جیسے یو پی اے حکومت کے غلط فیصلوں کو موجودہ این ڈی اے حکومت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تلنگانہ حکومت مرکز سے ٹکراؤ نہیں چاہتی بلکہ اپنے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات کا معاملہ دستور کی خلاف ورزی ہے اور جمہوری اور وفاقی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔