سروے کے موقع پر تمام ارکان خاندان کی موجودگی بہتر ، دوسری ریاستوں اور ملکوں میں رہنے والوں کیلئے ثبوت پیش کرنا لازمی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست : ریاست بھر میں 19 اگست کو بڑے پیمانے پر گھر گھر سروے کا انعقاد عمل میں آئے گا ۔ اس سروے کے ذریعہ عوام کے سماجی و معاشی موقف کا تعین کیا جائے گا اور مستقبل میں اس سروے کی بنیاد پر سفید راشن کارڈس کی تقسیم عمل میں آئے گی ۔ عوام آروگیہ شری ہیلتھ اسکیم سے استفادہ کرسکیں گے ۔ طلبہ کو فیس باز ادائیگی اسکیم سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا ۔ معذورین ، بیوائیں اور بزرگ مرد و خواتین وظائف حاصل کرسکیں گے ۔ اس سروے کے بارے میں عوام میں کئی الجھنیں اور خدشات پائے جاتے ہیں لیکن ان کے لیے ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ سروے نہ صرف ایک مردم شماری کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ بہبودی اسکیمات سے مستفید ہونے والوں کا تعین بھی کرتا ہے ۔ کیوں کہ حکومت مستحقین کو ان کا حق دلانے کی خواہاں ہے ۔ خاص طور پر مسلمان تعلیمی و معاشی اعتبار سے کافی پسماندہ ہیں ان میں 95 فیصد خاندان ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کرسکتے ۔ اگر کسی عارضہ کی صورت میں آپریشن کروانے کی ضرورت لاحق ہو تو آپریشن کرانے سے بھی وہ قاصر ہیں کیوں کہ ان کی معاشی حالت اس قدر خراب ہے کہ سرکاری اسکیمات ہی ان کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے پرنسپال سکریٹری محکمہ پنچایت مسٹر ریمنڈ پیٹر نے حال ہی میں اس گھر گھر سماجی سروے کے بارے میں پیدا شدہ خدشات دور کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیوں کہ عوام کے ذہنوں میں یہ سوالات گردش کررہے ہیں کہ کیا اس سروے کے دوران بنک اکاونٹ اور پیان کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہے ؟ اور اس سروے میں ہمیں حصہ کیوں لینا چاہئے ۔ اس سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں ؟ اگر سروے میں حصہ لینے سے انکار کردیں تو کیا ہوگا ؟ سروے کے دن گھر پر تالا ہوگا تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟ اگر ہم اپنے اصل علاقہ کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کریں تو اس کا کیا اثر ہوگا ؟ اس لیے کہ کئی لوگوں کے پاس صداقت نامہ پیدائش نہیں ہیں ۔ متوسط اور خوشحال طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو اس سروے میں کیوں شامل ہونا چاہئے ؟ آیا سروے میں صرف ان لوگوں پر ہی توجہ مرکوز کی جارہی ہے جو سرکاری اسکیمات سے مستفید ہوتے ہیں؟ ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا سروے کے دوران خاندان کے تمام ارکان کا موجود رہنا ضروری ہے ؟ ان تمام سوالات کے جوابات پرنسپال سکریٹری محکمہ پنچایت حکومت تلنگانہ مسٹر ریمنڈ پیٹر نے دئیے ہیں ۔ اس سوال پر کہ سروے کے دوران کیا تمام ارکان خاندان کی موجودگی ضروری ہے ؟ وہ کہتے ہیں ’ ہاں ‘ اس لیے کہ سروے کے لیے آنے والے عہدیدار ان لوگوں کی ہی تفصیلات اکٹھا کریں گے جو سروے کے وقت موجود ہوں اگر بچے یا خاندان کے دیگر ارکان تعلیم روزگار یا دیگر وجوہات کے باعث دوسری ریاستوں اور ممالک میں موجود ہوں تو ایسے میں ان کے بارے میں ثبوت فراہم کرنا ہوگا اگر کوئی ہاسپٹل میں زیر علاج ہو تو ان کے بارے میں بھی ثبوت پیش کرنا ہوگا ۔ بنک اکاونٹس اور پیان کارڈ کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا ہے کہ بنک اکاونٹس نمبرس ان افراد کے لیے ہی ضروری ہیں جو حکومت کی بہبودی اسکیمات اور دیگر فوائد سے استفادہ کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر وظیفے ، اسکالر شپس ، فیس باز ادائیگی وغیرہ وغیرہ ۔ ایسی صورت میں سبسیڈی کی رقم ان کے بنک اکاونٹس میں جائے گی ۔ جب کہ خط غربت سے اوپر زندگی گذارنے والوں کے لیے یہ مستقبل میں کارآمد ثابت ہوگا ۔ انہیں ایل پی جی اور دیگر اسکیمات میں مدد ملے گی ۔ مسٹر پیٹر ریمنڈ کے مطابق اس سروے میں عوام کا حصہ لینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ عوام کے سماجی و معاشی موقف کے بارے میں کیا جارہا ہے کیوںکہ حکومت نے مستقبل کے اسکیمات اور پروگرامس کے لیے اس سروے کے ڈاٹا بیس ( تفصیلات ) کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سروے سے نہ صرف سماج کے غریب طبقہ کو فائدہ حاصل ہوگا بلکہ دیگر زمروں کے خاندانوں کو بھی انکم سرٹیفیکٹس ، کاسٹ سرٹیفیکٹس ، میریج سرٹیفیکٹس وغیرہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔ یہ سروے آپ کے مقام سکونت کا بھی ایک ثبوت ہوگا ۔ لوگ اس سروے میں تفصیلات درج کرانے سے انکار بھی کرسکتے ہیں لیکن اس سے مستقبل میں ان کا ہی نقصان ہوگا ۔ اگر وہ مستقبل میں کوئی سرکاری سرٹیفیکٹ حاصل کرنا چاہیں گے تو حاصل نہیں کرپائیں گے ۔ کیوں کہ یہ سرٹیفیکٹس انہیں اس لیے جاری نہیں کئے جائیں گے کیوں کہ ڈاٹا بیس میں ان کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود ہی نہیں رہیں گی ۔ اگر ہنگامی حالات میں لوگوں کو کہیں جانا پڑ جائے تو وہ اپنی تفصیلات پڑوسیوں کے حوالے کر کے جاسکتے ہیں ۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ سروے کے موقع پر موجود رہیں ۔ مسٹر پیٹر ریمنڈ کے مطابق اس سروے میں امیر غریب سب حصہ لیں ۔ اس لیے کہ حکومت تمام کو کارڈس جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس سے آپ کی شناخت اور مقام رہائش کا ثبوت مل سکتاہے اس سرکاری عہدہ دار کے مطابق اس سروے کا اصل مقصد بوگس استفادہ کنندگان کا پتہ چلانا ہے اس کے باوجود یہ سروے ہر کسی کے لیے اہم ہے ۔ بہر حال مسلم اقلیت کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ شہر کی ایک تنظیم مہر آرگنائزیشن نے عوام میں اس سروے کے تعلق سے شعور پیدا کرنے کی خاطر نیا پل پر ایک بہت بڑی ہورڈنگ نصب کی ہے جس سے لوگوں میں ایک اچھا پیام جارہا ہے ۔ امید ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ سروے میں حصہ لے کر خود کو سرکاری اسکیمات کے مستحق بنائیں گے کیوں کہ سرکاری اسکیمات کے زیادہ مستحق مسلمان ہی ہیں ۔۔