اساتذہ کے تقررات میں کوتاہیوں کی شکایت
حیدرآباد ۔ 19 مئی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے انضمام اور انہیں بند کئے جانے کے سلسلہ میں جاری کردہ جی او نمبر 6 کو مخالف عوام قرار دیتے ہوئے مختلف گوشوں سے حکومت پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو جہاں طلبہ یا اساتذہ کی تعداد کم ہے، انہیں بند کرتے ہوئے قریب کے اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیو ایجوکیشن کمیٹی نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اسکولوں کو بند کئے جانے کے فیصلہ کو مخالف عوام قرار دیا اور کہا کہ سرکاری اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئے۔ سرکاری اسکولوں میں تمام جماعتوں میں ہر مضمون کے درس و تدریس کیلئے اساتذہ کے تقرر کو یقینی بناتے ہوئے ان کے نتائج کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی وزیرتعلیم مسٹر کڈیم سری ہری سے ملاقات کرتے ہوئے کمیٹی کے ذمہ داران پروفیسر چکرا دھر راؤ جنرل سکریٹری، پروفیسر ہراگوپال اور پروفیسر کے لکشمی نارائنا کے علاوہ دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کارپوریٹ اداروں کی مدد حاصل کرے تاکہ غریب طلبہ کے تعلیم کا انتظام برقرار رہ سکے۔ کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہیکہ بار بار اسکولوں کی تبدیلی و اساتذہ کی تبدیلی کے باعث ترک تعلیم کے فیصد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سیو ایجوکیشن کمیٹی نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او نمبر 6 سے فوری دستبرداری اختیار کرنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ جی او پر عمل آوری کی صورت میں سرکاری اسکولوں کو بند کردیئے جانے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ فی الحال ریاست میں مزید اضافی اسکولوں کی ضرورت ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کا یہ فیصلہ ریاست میں خواندگی کے فیصد کو گھٹانے کے مترادف ثابت ہوگا۔ ریاست بالخصوص دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتو ںکی فراہمی کو یقینی بنائے جانے کی صورت میں ان اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اسکولوں انضمام کے منصوبہ کو ترک کرتے ہوئے اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ تیار کرے تاکہ غریب بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے۔