سرکاری اسکولوں میں اردو کے ساتھ ناانصافی اور مسلمانوں پر بودھ حملوں کی مذمت

نئی دہلی ۔ 20 جون (فیکس) شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ماہ رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ روزوں اور تراویح کی پابندی کو یقینی بنائیں اور غرباء و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام کریں اور جمعہ کی نماز کیلئے دو گھنٹے کاروبار بندکریں۔ شاہی امام نے ہندوستان میں اردو زبان کے ساتھ سوتیلے رویے کی مذمت کی اور اظہارافسوس بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان ہندوستان کی زبان ہے اور اس کی پیدائش بھی یہیں ہوئی ہے۔ اس زبان نے ہی ملک کو آزادی دلائی ہے۔ اسے صرف مسلمانوں کی زبان سمجھنا سراسر غلط ہے۔ اردو زبان کا استعمال برادران وطن بھی شوق و ذوق سے کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک شیریں زبان ہے۔ دہلی میں بھی اس کے ساتھ سوتیلا رویہ رکھا جارہا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اردو کے اساتذہ کی تعداد بہت ناکافی ہے

اور کچھ اردو میڈیم اسکولوں میں پرنسپل بھی اردو سے ناواقف ہیں اور اردو میڈیم اساتذہ بھی نہیں ہیں جس سے اردو میڈیم طلبہ کا زبردست نقصان ہورہا ہے۔ وزیراعظم اور وزیراقلیتی امور، وزیرایچ آر ڈی، لیفٹننٹ گورنر دہلی اور محکمہ تعلیم دہلی سے ہماری اپیل ہیکہ اردو زبان کے اساتذہ اور اردو میڈیم سے دوسرے مضامین پڑھانے والے اساتذہ کا تقرر کیا جائے اور اردو کے ساتھ انصاف کرلیا جائے۔ افسوس کی بات ہیکہ اردو اکیڈیمی، فروغ اردو زبان کونسل بھی اس سمت میں خصوصی توجہ نہیں کررہی ہے جس سے اردو زبان کا مستقبل خطرہ سے دوچار ہے۔ شاہی امام نے سری لنکا میں مسلمانوں پر بودھ بالا سینا کے ذریعہ حملوں کی شدید مذمت کی اور سری لنکا حکومت کی لاپرواہی پر اظہارافسوس کیا۔ خبروں سے معلومات ایسی ہی ملی ہیں کہ سری لنکا کی پولیس تماشائی بنی ہوئی ہے شاید اسے حکومت کی طرف سے ایسی ہی ہدایت ہے

اور مسلمانوں کی ہلاکت پر شدید افسوس کرتے ہوئے شاہی امام نے بودھ رہنماؤں دلائی لامہ وغیرہ اور سری لنکا حکومت سے پرزور اپیل کی کہ مقامی مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بودھ شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس طرح کی قتل و غارت گری ناقابل برداشت ہے۔ شاہی امام نے مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ عراق کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہاں سے سب ہی ہندوستانیوں کو بخیر واپس لایا جائے اور مغویہ ہندوستانیوں کو بھی رہا کرا کر بخیر واپس لایا جائے۔ شاہی امام نے کہا کہ عراق میں بیرونی طاقتوں کی سامشوں سے یہ سب کچھ ہی ہورہا ہے جو بہت افسوس کی بات ہے۔ وہاں کی بدامنی کو سنی شیعہ فساد کی بھی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے یہ ایک زبردست سازش ہے جسے مسلمانوں کو ناکام بنانا چاہئے۔ شاہی امام نے کہا کہ عراق میں جو کچھ مذہب اسلام کے نام پر ہورہا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہماری سب سے اپیل ہیکہ بدامنی کو ختم کیا جائے اور عوامی ہلاکتوں کو بند کیا جائے۔