سالار جنگ میوزیم کے نوادرات میں آئندہ ماہ مزید اضافہ ہوگا

تیسری صدی کے نایاب سکے بھی نمائش کیلئے رکھے جائیں گے ، ایم ویریندر ڈپٹی کیوریٹر میوزیم
حیدرآباد ۔ 21۔ مئی (سیاست نیوز) سالارجنگ میوزیم میں موجود نوادارت میں آئندہ ماہ مزید اضافہ ہوگا ۔ سالارجنگ میوزیم انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ تیسری صدی بی سی کے انتہائی قدیم 300 سکے نمائش کیلئے رکھے جائیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 300 ایسے سکے جو کہ قدیم نوادارت میں شامل ہوچکے ہیں انہیں سالارجنگ میوزیم کی جانب سے ماہ جون کے دوران عوامی مشاہدہ کیلئے رکھا جائے گا ۔ بتایاجاتا ہے کہ میوزیم میں موجود 600 ایسے منفرد سکوں میں سے 300 سکوں کو نمائش کیلئے پیش کیا جارہا ہے جو کہ مختلف حکومتوں کے ادوار سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ ڈپٹی کیوریٹر سالارجنگ میوزیم مسٹر ایم ویریندر کے بموجب ساتاواہنا دور کے علاوہ وشنوکنڈینا شتروپکشا اور گپتا سلطنت کے دور کے ان سکوں کو نمائش کیلئے رکھا جارہا ہے ۔ علاوہ ازیں اس تین سو سکوں میں ریاست دکن میں بہمنی ، عادل شاہی ، قطب شاہی اور آصفجاہی حکومتوں کے دور کے سکے بھی شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سونے کے سکے بھی شامل ہیں جو سلطنت وجیا نگر میں قابل استعمال تھے اور سلور کے سکے جن پر چارمینار کا نقش ہے اور عربی تحریر موجود ہے وہ بھی نمائش کا حصہ بنیں گے ۔ ڈائرکٹر سالارجنگ میوزیم مسٹر اے ناگیندر ریڈی کے بموجب میوزیم میں 300 سکوں کی اس نمائش کے آغاز سے میوزیم کی اہمیت و افادیت کے علاوہ مشاہدہ کے شوق میں بھی اضافہ کا باعث بنے گا ۔ سالارجنگ میوزیم میں موجود قیمتی نوادارت کے علاوہ مخطوطات کے ساتھ ساتھ سالارجنگ اول اور سالارجنگ سوم کی جانب سے جمع کردہ کئی اہم اشیاء موجود ہیں جن کا مشاہدہ کرنے ملک و بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں عوام میوزیم پہونچتے ہیں ۔ اس میوزیم میں ان سکوں کی نمائش کا اضافہ میوزیم اور شہر حیدرآباد کی سیاحت کی غرض سے آنے والوں کیلئے ایک بہترین تفریح و معلومات میں اضافہ کا باعث ثابت ہوگا ۔