سابق اسرائیلی وزیراعظم کو رشوت خوری پر 6 سال قید

تل ابیب۔13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سابق اسرائیلی وزیر ایہود اولمرٹ کو رشوت خوری کے جرم میں اب جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔انھیں ایک عدالت نے کرپشن اور رشوت کے الزامات ثابت ہونے پر مجرم قراردے کر چھے سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ کسی اسرائیلی وزیر اعظم کو اس نوعیت کے مقدمے میں پہلی مرتبہ جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ اولمرٹ پر الزام تھا کہ انھوں نے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے سے قبل مقبوضہ بیت المقدس کے میئر کی حیثیت سے ایک لاکھ 44 ہزار امریکی ڈالرس رشوت کے طور پروصول کئے تھے۔ یہ رشوت ہولی لینڈ اپارٹمنٹس کی تعمیر کے ٹھیکوں میں لی گئی تھی۔
انھوں نے ایک اور منصوبے میں میئر ہوتے ہوئے 17 ہزار امریکی ڈالرز رشوت لی تھی۔اسرائیلی جج ڈیوڈ روزن نے سابق وزیر اعظم کو رشوت کے ان دو الگ الگ الزامات میں قصور وار قراردے کر سزا سنائی ہے۔ان کے وکلاء سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ 68 سالہ اولمرٹ کو اس وقت تک جیل نہ بھیجنے کی درخواست کریں گے جب تک سپریم کورٹ میں میں ان کی دائر کردہ اپیل کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ تاہم اس اپیل کی سماعت میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔کرپشن الزامات کی وجہ سے اولمرٹ کو 2008ء میں وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہونا پڑا تھا لیکن دو سال پہلے انھیں بعض الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔ ان میں ایک امریکی تاجر سے روابط کا بھی الزام شامل تھا۔واضح رہے کہ اولمرٹ کو فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے عالمی سطح پر اعتدال پسندانہ خیالات کا حامل سمجھا جاتا تھا۔تاہم ان کے دور میں امن عمل میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی۔