زیرسمندر زلزلہ کے بعد جاپان ہلکی سونامی سے متاثر

ٹوکیو 17 فروری (پی ٹی آئی) ایک ہلکی سونامی سے شمالی جاپان متاثر ہوا۔ قبل ازیں ساحل کے قریب زیرسمندر ایک طاقتور زلزلہ آیا تھا۔ 2011 ء میں اِسی علاقہ میں قاتل سونامی نے بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلائی تھی۔ 20 سنٹی میٹر (8 انچ) اونچی سمندری موج مشرقی آئیوٹ کے علاقہ کوجی میں 9:07 بجے صبح دیکھی گئی جو امکان ہے کہ ایک میٹر (3.3 فیٹ) بلند سونامی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ جاپان کے محکمہ موسمیات نے انتباہ دیا کہ یہ سونامی جاپان سے ٹکرا سکتی ہے۔ سمندر جو خاموش تھا، اب بھی اِس نے کوجی کے علاقہ میں ہلکی موجیں اُٹھ رہی ہیں۔ اِس کا امکان نہیں کہ وہ بہت زیادہ بلند ہوجائیں گی۔ 10 سنٹی میٹر تک بلند موجیں دیگر ساحلی علاقوں میں جو آئیوٹ کے آس پاس ہیں، ریکارڈ کی گئی ہیں۔ فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ فضائی جھلکیوں میں دکھایا گیا ہے کہ سمندر کی سطح میں ساحلی علاقہ میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔

اِس علاقہ کے بندرگاہوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ این ایچ کے نشریاتی چیانل نے مستقل طور پر اِس علاقہ میں کیمرے نصب کردیئے ہیں۔ جے ایم اے نے کہاکہ 6.9 شدت کا زلزلہ 8:06 بجے صبح بحرالکاہل میں جاپانی ساحل میاکو سے 210 کیلو میٹر (130 میل) کے فاصلے پر محسوس کیا گیا۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ ماہرین ارضیات اِس زلزلہ کو 2011 ء کے زلزلہ کا مابعد جھٹکہ سمجھتے ہیں۔ آئیوٹ میں مقامی عہدیداروں نے 19 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اِس علاقہ کے تخلیہ کا مشورہ دیا ہے۔ ساحل کے وسیع علاقوں کو مشورے دیئے گئے تھے کہ 2011 ء کے زلزلے اور سونامی کے وقت بھی اِس علاقہ کا تخلیہ کردیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا تھا ، جس کی وجہ سے 18 ہزار افراد ہلاک ہوگئے اور فوکوشیما میں نیوکلیر حادثہ پیش آیا۔ زیرسمندر9.0 شدت کے زلزلہ سے ایک بڑے پیمانہ کی سونامی اُٹھ سکتی ہے جو فوکوشیما تائی چی پاؤر پلانٹ کے کولنگ سسٹم کو بہا لے جاسکتی ہے۔ اِس کی وجہ سے موجودہ نسل کے بدترین ایٹمی حادثہ کا اندیشہ ہے۔ اِس آفت سماوی کی چوتھی سالگرہ 11 مارچ کو ہے۔ اِس کی پھیلائی ہوئی تباہی ابھی تک جاپانیوں کی نفسیات پر اپنے اثرات مرتب کررہی ہے۔ جاپان دنیا کے ان طاقتور ترین زلزلوں کے پانچویں حصہ کا ہر سال شکار ہوتا رہتا ہے۔ کیونکہ اِس علاقہ میں ارضیاتی پرتیں مسلسل متحرک رہتی ہیں۔