زرعی بحران کی یکسوئی کیلئے اجتماعی کوششوں کی اپیل

نئی دہلی۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کسان کی خودکشی پر باہم الزام تراشی میں آج شدت پیدا ہوگئی جبکہ پولیس اور حکومت نے عام آدمی پارٹی پر الزام عائد کیا کہ اُس نے خودکشی کیلئے اُکسایا تھا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس آج اس مسئلہ پر دہل کر رہ گئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپیل کی کہ اس زرعی بحران کی جڑیں بہت گہری ہیں جس کو دُور کرنے کیلئے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ برسرعام خودکشی کا واقعہ بحران کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے الزامات عام آدمی پارٹی پر عائد کرتے ہوئے اس کے حامیوں نے اس وقت تالیاں بجائیں اور نعرے بازی کی تھی جبکہ گجیندر سنگھ خودکشی کرنے کیلئے درخت پر چڑھ کر نعرہ بازی کررہا تھا۔ کارکنوں نے پولیس کو بھی کسان کو خودکشی کرنے سے روکنے کا کوئی اقدام نہیں کرنے دیا۔ جلسہ عام جاری رکھنے پر بے حسی کے الزام کا سامنا کرنے والے عام آدمی پارٹی قائدین نے الزامات کی تردید کرنے کیلئے دو پریس کانفرنسیں منعقد کیں اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔ عام آدمی پارٹی قائد کمار وشواس نے جن کے ساتھ سنجے سنگھ اور اشوتوش تھے، یہ مطالبہ کیا۔ کانگریس نے بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت پر حصول اراضی آرڈیننس کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر جارحانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس میں اپوزیشن نے خودکشی کا مسئلہ اٹھایا اور حکومت پر جاریہ زرعی بحران کے سلسلے میں تنقید کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم ایوان میں آکر بیان دیں ۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ملک گیر سطح پر کاشت کاروں کو درپیش مسائل پر مباحث منعقد کئے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ کاشت کار خودکشی نہ کریں، اجتماعی کوشش ضروری ہے۔ جوغلطیاں اور کوتاہیاں ہم سے پہلی کی حکومتیں اور ہمارے دور اقتدار میں ہوچکی ہیں ، ان کا اعادہ نہ ہونے کو یقینی بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے کاشت کاروں کی خودکشیاں پورے ملک کیلئے تشویشناک بنی رہی ہیں ۔ ہم سب اس پر غور کریں گے کہ غلطی کہاں ہوئی ہے اور کوتاہیاں کیا ہیں۔ ہمارے گزشتہ دس ماہی دور اقتدار میں ہونے والی کوتاہیوں کا بھی پتہ چلایا جائے گا۔ دو گھنٹہ طویل مباحث میں ارکان نے پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر اس مسئلہ پر اظہارِ رنج و غم اور تشویش کیا ۔ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔ راجیہ سبھا میں بھی ارکان نے اظہار تشویش کیا۔ اپوزیشن نے سی بی آئی تحقیقات اور وزیراعظم کی جانب سے جواب کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف حصول اراضی قانون پر توجہ مرکوز کررہی ہے ، کاشت کاروں کی پریشانی اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اس کی نظر نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ میں قانون منظور کروانے کیلئے انتقامی رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔

ماسک صاف نہ ہونے پر پائیلٹ کا اعتراض ، ایرانڈیا پروازمیں تاخیر
نئی دہلی۔ 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایرانڈیا نے آج پائیلٹ کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا جس نے دہلی ۔ کوچی پرواز چلانے سے محض اس لئے انکار کردیا کہ ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کیا جانے والا آکسیجن سلنڈر کا ماسک صاف ستھرا نہیں تھا۔ پائیلٹ کے اس رویہ کی وجہ سے طیارہ کی پرواز میں 3.5 گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ ایرانڈیا نے ماسک تبدیل کرنے کیلئے طویل انتظار کرانے پر فلائیٹ انجینئر کو بھی ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے اور ان دونوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔