بائیں بازو کی تخریب کاری کے علاقوں کو ترجیح : روی شنکر پرساد
نئی دہلی 7 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے ملک کی ان 10 ریاستوں میں ٹیلیکام ٹاورس نصب کرنے کی تجویز کو منظوری دیدی ہے جہاں بائیں بازو کی تخریب کاری کا مسئلہ درپیش ہے ۔ ان ٹاورس کی تنصیب پر جملہ 3,567.18 کروڑ روپئے کا حرچ آئیگا ۔ پارلیمنٹ کو آج اس بات سے مطلع کیا گیا ۔ مرکزی وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ کابینہ نے وزارت داخلہ کے شناخت کردہ دس ریاستوں کے 2,199 مقامات پر موبائیل ٹاورس نصب کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ جن ریاستوں میں یہ ٹاورس نصب کئے جائیں گے ان میں آندھرا پردیش ‘ بہار ‘ مدھیہ پردیش ‘ چھتیس گڑھ ‘ جھارکھنڈ ‘ مہاراشٹرا ‘ اوڈیشہ ‘ تلنگانہ ‘ اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں ۔ ان ریاستوں میں بائیں بازو کی تخریب کاری کا مسئلہ ہے ۔ مسٹر پرساد نے کہا کہ بی ایس این ایل کو اس کام کی انجام دہی کا ذمہ دیا گیا ہے ۔ ٹیلیکام کمیشن نے 13 جون کو ہوئے اپنے اجلاس میں اس پراجیکٹ کی نظر ثانی شدہ قیمت 3,567.18 کروڑ روپئے کی سفارش کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلیکام کمیشن نے ملک کے شمال مشرقی علاقہ کیلئے ایک جامع ٹیلیکام ڈیولپمنٹ منصوبہ پر عمل آوری کی تجویز کو بھی منظوری دیدہے اور اس پراجیکٹ پر جملہ 5,336.18 کروڑ روپئے کے اخراجات آئیں گے ۔