ریل کرایوں میں اضافہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ریل کرایوں اور شرح مال برداری میں اضافہ کے خلاف بڑی اپوزیشن جماعتوں نے آج زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ پارٹی قائدین اور کارکن ملک بھر میں مختلف مقامات پر سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے اضافہ کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسافرین کے کرایوں میں اضافہ سے افراط زر کی شرح مزید بڑھے گی اور عام آدمی پر زائد بوجھ عائد ہوگا ۔ دہلی میں کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی کی زیر قیادت ہزاروں کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اس احتجاج کی وجہ سے ٹریفک آمد و رفت متاثر رہی اور جب احتجاجیوں نے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے پانی کی بوچھار کے ذریعہ انہیں منتشر کردیا ۔ ارویندر سنگھ نے کہا کہ یہ انتہائی غیر معمولی اضافہ ہے ۔ حکومت یہ فیصلہ کیسے کرسکتی ہے جب کہ پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن عنقریب شروع ہونے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جو انتخابات سے قبل ’ اچھے دن ‘ کی بات کررہے تھے ۔

اب ’ کڑوی دواؤں ‘ کی بات کررہے ہیں ۔ انہوں نے فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں ریل روکو احتجاج شروع کرنے کا انتباہ دیا۔ دہلی میں کانگریس اور سی پی ایم کارکنوں نے اور اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کارکنوں نے ریل کرایوں میں بھاری اضافہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ دہلی میں پارٹی سربراہ اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں سینکڑوں کانگریس کارکنوں نے جنکپوری میں احتجاج کیا اور ان کا پولیس کے ساتھ ٹکراؤ ہوا ۔ پولیس کو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا ۔ مسٹر لولی نے کہا کہ یہ بہت زیادہ اضافہ ہے ۔ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس سے قبل عین قبل اس طرح کا فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ انتخابات سے قبل اچھے دن کی بات کرتے تھے اب وہ سخت فیصلوں اور کڑوی دوا کی بات کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل بی جے پی نے افراط زر پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ اگر اس طرح کے فیصلے کئے جائیں تو ملک کے عوام حکومت کو سزا دینگے ۔ حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہو رہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے سے دستبرداری اختیار کرلے کیونکہ اس سے مسافرین کو مشکلات پیش آئیں گی اور افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوجائیگا ۔ انہوں نے ریل روکو احتجاج منظم کرنے کا بھی انتباہ دیا ۔

دہلی کی سی پی ایم یونٹ نے بھی ریل بھون کے باہر احتجاج منظم کیا ۔ سی پی ایم لیڈر انوراگ سکسیینہ نے کہا کہ اقتدار پر آنے سے قبل بی جے پی دوسری جماعتوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہے ۔ اس نے عوام کو راحت پہونچانے کے وعدے پر ان کا اعتماد حاصل کیا ہے اور اب بی جے پی بھی مہینگائی کو ہوا دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے دوسری جماعتوں کو اس مسئلہ پر اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع نہیں دیا اور بجٹ سے قبل ہی کرایوں میں اضافہ کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ‘ یو پی اے کا بہانہ پیش کر رہی ہے ۔ سابقہ حکومت ختم ہوچکی ہے اور اب بی جے پی کو اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے کو بلی کا بکرا بنانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے ۔ وسطی دہلی میں اس احتجاج کے نتیجہ میں ٹریفک میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا ہے ۔ حکومت نے کل ہی ریل کرایوں میں 14.2 فیصد اور شرح باربرداری میں 6.5 فیصد کا اضافہ کیا تھا ۔علاوہ ازیں لکھنو میں سماجوادی پارٹی کارکنوں نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج منظم کیا ۔ انہوں نے حکومت سے اضافہ کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ الہ آباد میں بھی پارٹی کارکنوں نے پرچم تھامے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا ۔ یہاں ایک گھنٹہ تک ٹریفک کو درہم برہم کردیا گیا ۔ سماجوادی پارٹی کے ورکرس نے گنگا گومتی ایکسپریس کو بھی اس وقت روک دیا جبکہ وہ لکھنو جا رہی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کی پرواہ کئے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں مہنگائی اور افراط زر کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا ۔ وزیر ریلوے سدانند گوڑا نے کل کہا تھا کہ وہ ریلوے کی ضروریات کو پورا کرنے اضافہ کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔