اردو کی ترقی کے لیے حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ۔ اولیائے طلباء میں تشویش
حیدرآباد 17 فروری ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے اردو زبان کی ترقی کے اقدامات کے دعوے کئے جاتے ہیں اور حکومت اردو کی ترقی ، ترویج و اشاعت کیلئے سرگرم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حیدرآباد میں چلائے جارہے دہلی پبلک اسکول میں اردو زبان کو ختم کردینے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے ۔ ریاست بالخصوص شہر میں چلائے جانے والے بیشتر خانگی مشنری اسکولس نے اردو زبان کو اختیاری مضامین کی فہرست میں شامل ہی نہیں رکھا ہے تدریسی صورت میں اردو زبان کی ترقی کو کیسے یقینی بنایا جاسکتا ہے جب کہ بنیادوں سے ہی اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دہلی پبلک اسکول کی جانب سے جاریہ ماہ کی ابتداء میں طلبہ کی روزمرہ ڈائری میں یہ تحریر پڑھ کر بیشتر اولیائے طلبہ سکتہ میں آگئے کہ اسکول نے اردو زبان کی تعلیم دینے کا سلسلہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسرے اختیاری مضامین کے متعلق اولیائے طلبہ اپنے انتخاب سے انتظامیہ کو واقف کروائیں ۔ اردو زبان کو اس اچانک بند کردیئے جانے پر اولیائے طلبہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے خواہش کی کہ وہ اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کریں چونکہ اسکول انتظامیہ کا یہ فیصلہ طلبہ بالخصوص اردو زبان کے مفادات کے مغائر ہے ۔ اس سلسلہ میں کانگریس قائد جناب محمد خلیق الرحمن نے قومی کمشنر برائے لسانی اقلیت پروفیسر اختر الواسع کو مکتوب روانہ کرکے اردو زبان کے متعلق اختیار کردہ دہلی پبلک اسکول کے متعصبانہ رویہ سے واقف کروایا اور بتایا کہ سابق میں اردو زبان بطور اختیاری مضمون فراہم کی گئی تھی اور کئی طلبہ نے اس کا انتخاب کیا لیکن جاریہ ماہ کے اوائل میں اچانک اسکول انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اردو زبان کی تعلیم کو ترک کردیا جائے ۔ انہوں نے قومی کمیشن برائے لسانی اقلیت کو روانہ مکتوب میں اولیائے طلبہ و خود اپنے احساسات سے واقف کرواتے ہوئے خواہش کی کہ کمیشن اس معاملہ میں مداخلت کرکے فرنچ ، سنسکرت کے ساتھ تیسری اختیاری زبان کے طور پر اردو کو بھی برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کرے۔ مکتوب میں انہوں نے کمشنر سے خواہش کی کہ وہ تمام دہلی پبلک اسکولس کے علاوہ سی بی ایس سی اور آئی سی ایس سی طرز تعلیم رکھنے والے اداروں کو بھی پابند بنائیں کہ وہ دیگر مضامین کے ساتھ بطور اختیاری زبان اردو کو برقرار رکھیں تاکہ ہندوستان میں اردو زبان کی اہمیت و افادیت برقرار رہ سکے اور اس زبان کو آئندہ نسل سیکھ سکے ۔ جناب محمد خلیق الرحمن کے مکتوب کی موصولی کے بعد قومی کمشنر برائے لسانی اقلیت مرکزی وزارت اقلیتی امور کے کمشنر پروفیسر اخترالواسع نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل مسز سمرتی ایرانی کو مکتوب روانہ کرکے ملک بھر میں چلائے جانے والے کیندر ودیالیہ ، سی بی ایس سی اور آئی سی ایس سی طرز تعلیم کے اداروں کو احکامات روانہ کرنے کی خواہش کی کہ وہ اردو زبان کو بطور اختیاری مضمون برقرار رکھیں چونکہ دستور ہند میں مادری زبان کی تعلیم اور مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کے حصول کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ۔ مرکزی حکومت کے ساتھ حکومت تلنگانہ کو بھی فوری اردو کی بقاء و فروغ کے اقدامات کیلئے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تمام اسکولوں کو اس بات کا پابند بنانا چاہئے کہ وہ اختیاری مضمون کے طور پر اردو کو زبانوں کی فہرست میں شامل کریں ۔