حیدرآباد 17 مارچ ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ میں ایک کانگریس رکن اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شمولیت سے روکتے ہوئے پارٹی ہزیمت سے بچ گئی ہے ۔ رکن اسمبلی کو راہول گاندھی کے دفتر کی مداخلت کی وجہ سے کانگریس سے ترک تعلق سے روکا گیا ۔ رکن اسمبلی میدک نندیشور گوڑ کانگریس سے علیحدگی اختیار کرکے ٹی آر ایس میں شامل ہونا چاہتے تھے ۔ نندیشور گوڑ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنجیدہ کانگریس کارکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ بہت خوش ہیں کیونکہ نوجوان لیڈر و مستقبل کے وزیر اعظم راہول گاندھی کے دفتر سے مجھے فون آیا ۔ کنشکا جی نے ان سے بات کی اور کہا کہ بھائی آپ پارٹی نہ چھوڑیں۔ کانگریس پسماندہ طبقات کے ساتھ ہے اور اس نے پنالہ لکشمیا کو پردیش کانگریس کا صدر بنایا ہے ۔
آپ ان کے ساتھ کام کریں اور آپ کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ آپ پارٹی میں رہیں۔ مسٹر گوڑ نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ میں نے کہا کہ ’ سر ‘ میں کانگریس کارکن ہوں ۔ میں نہیں جانا چاہتا ۔ کچھ لوگ مجھے پریشان کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں پارٹی چھوڑ دوں ۔ میں خود سے نہیں جارہا ہوں ۔ معلوم ہوا ہے کہ پنالہ لکشمیا اور تلنگانہ کے کچھ دوسرے قائدین نے بھی مسٹر گوڑ سے بات چیت کی ہے ۔ کانگریس کے ساتھ انضمام سے انکار کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے علاقہ میں کانگریس کی امیدوں کو توڑ دیا ہے ۔ دو دن قبل پارٹی آفس میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آر ایس صدر چندر شیکھر راؤ نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کانگریس سے اتحاد نہیں کریگی ۔
انہوں نے کہا تھا کہ اب دیکھئے کہ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہوتے ہیں یا صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ اس دوران مسٹر لکشمیا اور دوسرے قائدین اس بات پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ کانگریس پارٹی نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کردیا ہے ۔ نو نامزد کردہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ کانگریس نے تلنگانہ قائم کیا ۔ ہم نے علیحدہ ریاست ایک طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی ہے ۔ ہم ایک سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے عمل میں شامل ہونے کے خواہشمند افراد کو ساتھ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قائدین بشمول ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ انہیں مبارکباد دے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آکر ہم سے بات کریں۔ ٹی آر ایس نے تلنگانہ میں کانگریس سے انتخابی مفاہمت سے بھی گریز کیا ہے ۔