رویندر ریڈی اور ویر شیوا ریڈی کی تلگودیشم میں شمولیت

چندرا بابو سے ملاقات، پارٹی ہدایت کے مطابق مقابلہ کا اعلان

حیدرآباد /20 مارچ (سیاست نیوز) سابق ریاستی وزیر ڈی ایل رویندر ریڈی اور کانگریس رکن اسمبلی ویر شیوا ریڈی نے تلگودیشم میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی ایل رویندر ریڈی نے کہا کہ وہ گزشتہ 35 سال سے سیاست میں ہیں، ریاست کی تقسیم کے بعد سیاسی میدان سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کرچکے تھے، تاہم ان کے حامیوں نے اس کی مخالفت کی، لہذا انھوں نے رائے دہی کراتے ہوئے عوام کی رائے حاصل کی ہے۔ 95 فیصد عوام نے انھیں سیاست میں برقرار رہنے کامشورہ دیا، جس میں 57 فیصد عوام نے تلگودیشم میں شامل ہونے کا مشورہ دیا، جس کی وجہ سے وہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرچکے ہیں اور بہت جلد تلگودیشم میں شامل ہو جائیں گے۔ مقابلہ کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو اسمبلی اور پارلیمنٹ کے جس حلقہ سے مقابلہ کی ہدایت دیں گے، وہ اسی پر مقابلہ کریں گے، کیونکہ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد ان کی کوئی شخصی رائے نہیں رہے گی۔ وائی ایس آر کانگریس کو نظرانداز کرکے تلگودیشم کو اہمیت دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی ان کے اچھے دوست تھے، تاہم باپ بیٹے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی انھوں نے تلگودیشم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل کا مشورہ دینے اور اصرار کرنے والے کانگریس رکن اسمبلی ویر شیوا ریڈی نے بھی تلگودیشم میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں چندرا بابو نائیڈو موزوں قائد ہیں، لہذا تلگودیشم کو اقتدار تک پہنچانے اور جگن موہن ریڈی کی پارٹی کو ناکام بنانے کے لئے وہ تلگودیشم میں شامل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد کانگریس کا صفایا ہوگیا ہے، اب کانگریس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔