روہنگیا مسلمانوں کے خاتمہ کیلئے میانمار فوج نے منظم سازش تیار کی تھی : حقوق انسانی گروپ

بنکاک ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کی فوج نے زبردست اور منظم منصوبہ بند سازش تیار کرتے ہوئے روہنگیائی مسمانوں کو میانمار سے نکال دیا تھا۔ ان حقائق کا اظہار جمعرات کو حقوق انسانی گروپ نے کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فوج پر مسلمانوں کی نسلی تطہیر کا الزام بھی درست پایا گیا۔ واضح رہیکہ اگست 2017ء میں فوج کی ظالمانہ مہم کے نتیجہ میں 7 لاکھ روہنگیائی مسلمان اپنے وطن سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے اور بنگلہ دیش کے پہاڑی علاقوں میں، خستہ حال خیموں میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ فارٹیفائی کے کو۔ فاؤنڈر ’’میتھیو اسمتھ‘‘ نے کہاکہ یہ مہلک حملے ’’آراکان روہنگیا سالویشن آرمی‘‘ نے اگست میں کئے جس کی کافی پہلے منصوبہ بندی کی جاچکی تھی۔ میتھیونے صحافیوں سے کہا کہ میانمار کی سیکوریٹی سے کہا گیا تھا کہ روہنگیائی مسلم آبادی کو کمزور بنایا جائے تاکہ حملوں میں آسانی ہو اور ان کی جانب سے مضبوط مدافعت نہ ہو۔ اگرچیکہ روہنگیائی مسلمان طویل عرصہ سے وہاں رہتے آئے تھے لیکن انہیں ’’بدھسٹ اکثریتی‘‘ ملک میں ’’بیرونی‘‘ سمجھا جاتا تھا جوکہ فوج کی جانب سے کیا جانے والا پروپگنڈہ تھا جس نے بدھسٹوں کے دماغ میں گھر کرلیا تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جو بدھسٹوں کو ان کے ذہنوں میں داخل کئے گئے خیال کے بموجب ’’مسلمانوں کی نسلی تطہیر‘‘ کا مؤجب بنا۔ فارٹیفائی اور دیگر تنظیموں نے اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس کو ’’انٹرنیشنل کریمنل کورٹ‘‘ سے رجوع کیا جائے اور اس میں ملوث 22 فوجی اور پولیس عہدیداروں کو بشمول آرمڈ پولیس کے چیف منگ آنگ ہیلنگ کو جوابدہ بنایا جائے۔
لاپتہ لوگوں کی تلاش میں جمعہ کی صبح سے مہم چلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ لوگ لاپتہ ہیں۔