ماسکو ۔ 18 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام) پچھلے تیس سالوں میں روس میں موجود مساجد کی تعداد ستر گنا بڑھ کر سات ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ روس کے مفتیوں کی کونسل کے سربراہ شیخ رویل گین الدین نے شمالی شہر آرہانگیلسک کے دورے میں یہ بات بتائی۔ اُن کے مطابق 1980ء کے عشرے کے وسط میں روس میں ایک سو سے کم مساجد فعال تھیں لیکن آج ان کی تعداد سات ہزار سے زیادہ ہے۔ مفتیوں کی کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ مساجد کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے، یوں روس میں اسلامی انفراسٹرکچر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ شیخ رویل گین الدین کے مطابق روس کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں مساجد کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ مفتیوں کی کونسل کے مطابق روس میں تقریباً دو کروڑ مسلمان رہتے ہیں جن میں سے بیس لاکھ ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد ہیں۔ دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ اور اس کے نواحی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد 7.5 لاکھ ہے۔