تقسیم نامناسب ، آندھرا بھون بھی تلنگانہ کی جائیداد ، وزیراعظم آندھرا اور تلنگانہ کو دو آنکھوں کی طرح دیکھیں: کے سی آر
حیدرآباد 8 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤنے کہاکہ مکہ مکرمہ میں موجود رباط اور اجمیر میں موجود جائیداد اور آندھرا بھون کو ہرگز تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب حضور نظام کی جائیدادیں ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کو ترقی کے معاملہ میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کو اپنی دو آنکھوں کے طور پر دیکھنے اور صدر خاندان کی ذمہ داری نبھانے کی اپیل کرچکے ہیں۔ کسانوں کے قرضوں کی معافی کے معاملہ میں ٹی آر ایس اپنے منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے معاملے میں عہد کی پابند ہے۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والی عالمی میئرس کانفرنس کے لئے صدرجمہوریہ کو دعوت دی گئی۔ تلنگانہ کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا۔ دو دن تک دہلی میں مصروف رہنے والے چیف منسٹر تلنگانہ نے حیدرآباد واپس ہونے سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کی تقسیم ہوگئی ہے، ہمیں آندھرا والوں کا کچھ بھی نہیں چاہئے۔ ہمیں ہماری جائیدادیں اور اثاثہ جات چاہئے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حضور نظام کی جائیدادوں کو ہرگز تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ مکہ مکرمہ میں عازمین حج ریاست کی سہولت کے لئے حضور نظام نے رباط تعمیر کروایا، اس کی تقسیم ہرگز نہیں ہوسکتی۔ عازمین حج خدا کے مہمان ہوتے ہیں اس کو ہرگز تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور ساتھ ہی اجمیر میں بھی نظام کی جائیداد ہے اس کو بھی تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی میں موجود آندھرا بھون تلنگانہ کی جائیداد ہے۔ )
دہلی میں موجود حیدرآباد ہاؤز کے بارے میں انٹرنیٹ پر سرچ کریں، تمام معلومات دستیاب ہوجائیں گی۔ ہر مسئلہ کا ہم خوشگوار حل چاہتے ہیں۔ اگر متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات خوشگوار موڈ میں ہوئی۔ ریاست کی تقسیم کے موقع پر بل میں تلنگانہ کے لئے جو بھی سہولتیں، رعایتیں اور ترقیاتی پراجکٹس منظور کئے گئے ہیں، اس پر فوری عمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی پولاورم پراجکٹ کے آرڈیننس پر سخت اعتراض کیا گیا اور وزیراعظم کو یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ٹی آر ایس اس مسئلہ پر تلنگانہ بند کا اہتمام کرچکی ہے ۔کے سی آر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں مسئلہ پیش ہوگا تو ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ اس پر اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے سارے ملک کو تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے واقف کروائیں گے۔ کے سی آر نے کہاکہ ہم پولاورم پراجکٹ کے خلاف نہیں ہے۔ صرف ڈیزائن تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سمندر میں ضائع ہونے والے پانی کو اگر آندھراپردیش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ضلع کھمم کے 7 منڈل کو زبردستی آندھراپردیش میں ضم کیا جارہا ہے اور قبائیلیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ یہ علاقہ کشمیر کے مماثل ہے جس سے دونوں ریاستوں پر اثرہوگا۔
اگر اس فیصلہ پر نظرثانی نہیں کی گئی تو تلنگانہ برقی پراجکٹ سے محروم ہوجائے گا۔ تلنگانہ میں برقی قلت سے مرکزی حکومت اچھی طرح واقف ہے۔ پولاورم چار ریاستوں کا مسئلہ ہے اور چاروں ریاستوں میں قبائیلیوں کو نقصان پہونچ رہا ہے۔ لہذا وزیراعظم چار ریاستوں کے چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کریں اور مسئلہ کی یکسوئی کریں۔ تلنگانہ کی یوم تاسیس تقریب ہوچکی ہے اور سرکاری طور پر منائے جانے والے پروگرام میں شرکت کی وزیراعظم کو دعوت دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے ترقی کے معاملہ میں تلنگانہ ریاست سے تعاون کرنے کا مکمل تیقن دیا ہے۔ ان سے ہائیکورٹ کی بھی جلد از جلد تقسیم کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور ایمپلائز کی تقسیم کے معاملے میں جلد از جلد فیصلہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی سے بھی ملاقات کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ انھیں آئندہ ماہ جولائی میں حیدرآباد میں منعقد ہونے والی عالمی میئرس کانفرنس کا افتتاح کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ کسانوں کے قرضوں کی معافی کا معاملہ متنازعہ بن جانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ بینکرس کے اجلاس میں صرف کسانوں کے قرضہ جات کی تفصیلات پر بات ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کرنے کے معاملہ میں عہد کی پابند ہے۔ منشور میں جو بھی وعدے کئے گئے ہیں ان سب کو پورا کیا جائے گا۔ وزراء کو بھی احتیاط سے کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کو اقتدار سنبھال کر صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔ چار دن سے سیاسی جماعتیں کسانوں کے مسئلہ سے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کے پتلے نذر آتش کئے جارہے ہیں۔ بینکرس سے پہلے اجلاس میں 12 ہزار کروڑ تک قرضہ جات ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ مزید 10 ہزار کروڑ بھی اضافہ ہوجائے تو حکومت برداشت کرے گی اور جو وعدہ کیا گیا ہے اس پر عمل کرے گی۔ اس پر عمل آوری کے لئے تقریباً 2 ہفتے درکار ہوں گے۔