حیدرآباد 9 مارچ (سیاست نیوز) صدر کانگریس راہول گاندھی نے تلنگانہ میں پارٹی کی انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا۔ اُن کی آمد سے پارٹی قائدین اور کارکنوں میں جوش و خروش دیکھا گیا۔
٭ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے قریب کلاسک کنونشن کے 30 ایکر وسیع و عریض میدان میں پارٹی کارکنوں اور قائدین کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے کٹ آؤٹس لگائے گئے تھے۔
٭ راہول گاندھی مقررہ پروگرام سے نصف گھنٹہ تاخیر سے حیدرآباد پہونچے اور شام 7 بجکر 15 منٹ پر اجلاس میں شریک رہے۔
٭ جلسہ گاہ پہونچتے ہی اُنھوں نے پارٹی کے سینئر قائدین سے ملاقات کی جو قطار میں اُن کا انتظار کررہے تھے۔
٭ لوک سبھا حلقہ چیوڑلہ کے تحت یہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس کے انتظامات رکن پارلیمنٹ ویشویشور ریڈی نے کئے تھے۔
٭ راہول گاندھی 5 بجکر 25 منٹ پر ایرپورٹ پہونچے اور 6.10 بجے جلسہ گاہ پہونچے۔ اُن کی آمد اور راستہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مقامی پولیس کی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے خانگی سکیورٹی گارڈس کا انتظام کیا تھا تاکہ ٹریفک میں کوئی خلل نہ ہو۔
٭ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور انچارج تلنگانہ آر سی کنتیا نے پارٹی قائدین کا راہول گاندھی سے تعارف کرایا۔
٭ سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو اور کانگریس کے ارکان اسمبلی نے راہول گاندھی کو تہنیت پیش کی۔ اُنھیں چارمینار کا تحفہ پیش کیا گیا۔
٭ ویشویشور ریڈی نے اپنی خیرمقدمی تقریر کا آغاز اُردو زبان سے کیا اور ’’آپ تمام کو آداب عرض ہے، آپ سب کا خیرمقدم کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ ادا کئے جس کا سامعین نے استقبال کیا۔
٭ شہ نشین پر راہول گاندھی نے تمام قائدین سے فرداً فرداً ملاقات کی جن میں ایس جئے پال ریڈی، وجئے شانتی، محمد اظہرالدین، محمد علی شبیر، کے جاناریڈی، نندی ایلیا، پی سدھاکر ریڈی، چناریڈی، مدھو یاشکی گوڑ، پونم پربھاکر، بھٹی وکرامارکا، پنالہ لکشمیا، کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، سبیتا اندرا ریڈی، سمپت کمار، وی ہنمنت راؤ اور دوسرے شامل ہیں۔
٭ رکن اسمبلی سبیتا اندرا ریڈی نے خیرمقدم کیا۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، وجئے شانتی، ویشویشور ریڈی، کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی، سمپت کمار نے مخاطب کیا۔
٭ سابق وزیر اور قانون ساز کونسل میں فلور لیڈر محمد علی شبیر واحد مقرر تھے جنھوں نے اُردو میں مخاطب کیا۔ اُنھوں نے کے سی آر کو جھوٹ اور جھوٹوں کا شہنشاہ قرار دیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں۔ 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کے سی آر فراموش کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بِل کو کانگریس نے روکا جبکہ کے سی آر نے خاموشی اختیار کی۔
٭ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ مودی دور حکومت میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ایسی حکومت کو بیدخل کرنا ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 16 ارکان پارلیمنٹ کو منتخب کرنے کی کے سی آر کی اپیل مضحکہ خیز ہے کیوں کہ فی الوقت 15 ارکان پارلیمنٹ ٹی آر ایس کے پاس ہیں لیکن مرکز سے ایک بھی مطالبہ کی تکمیل میں وہ کامیاب نہیں رہے۔ ٹی آر ایس کو ووٹ دینا دراصل بی جے پی کو ووٹ کے مترادف ہوگا۔