بندی پورہ ( کشمیر) 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)جموں و کشمیر کے متاثرین سیلاب کو راحت رسانی پر بھی سیاست کرنے کا بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہا کہ مرکز میں برسر اقتدارپارٹی نے تیقن دیا تھا کہ وہ قوم کو آسمان پر پہنچادیں گے لیکن اس کی تکمیل کیلئے عملی کارروائی نہیں کی گئی ۔ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس امیدوار عثمان نجیب کی انتخابی مہم میں شرکت کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت انتخابات منعقد کئے جارہے ہیں جبکہ عوام ابھی تک سیلاب کی تباہی سے سنبھل نہیں پائے ہیں۔ یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ راحت رسانی اور باز آبادکاری کے کام کے بجائے سیاست کی بات کی جائے ۔ صدر کانگریس نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے 2005 کے متاثرین زلزلہ کو راحت رسانی کیلئے ہر ممکن کوشش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اب کیا ہوا ہے جبکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ۔ بی جے پی قائدین آئے اور انہوں نے آسمان زمین پر لانے کا تیقن دیا لیکن عملی اعتبار سے کچھ نہیںکیا ۔ یہاں تک کہ ریاستی حکومت نے جو مانگا تھا وہ بھی نہیں دیا
گیا ۔ متاثرین سیلاب اور تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی راحت رسانی ،باز آباد کاری اور از سر نو تعمیر کیلئے جموں کشمیر حکومت نے 44 ہزار کروڑ روپئے طلب کئے تھے لیکن وزیراعظم مودی نے صرف 745کروڑ روپئے کی امداد کا 23 اکٹوبر کو دیوالی کے موقع پر اعلان کیا ۔ سونیا گاندھی نے متاثرین سیلاب کو راحت رسانی کرنے والے رضا کاروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ کانگریس کے کشمیری عوام سے سدا بہار تعلقات ہیں ۔ میرے خاندان کی بنیاد مجھے بار بار یہاں لاتی ہیں۔ جموں و کشمیر کیلئے یو پی اے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے سونیا نے کہا کہ وولر کو خوبصورت بنانے کا پراجکٹ 2011 میں منظور کیا گیا تھا۔ کانگریس نے کشمیری عوام کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔ جموں و کشمیر کو کانگریس کے دور میںجو ترقی دی گئی وہ انتہائی واضح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خواب مت دکھائیے جن کو حقیقت میں تبدیل کرنا نا ممکن ہو ۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ سیکولر اقدار کے تحفظ کیلئے کانگریس کو ووٹ دیں کیونکہ کانگریس سیکولرازم میں یقین رکھتی ہے اور فرقہ پرستوں طاقتوں کو دور رکھنا چاہتی ہے اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔