راج بہادر گوڑ اردو کے طاقتور سپاہی تھے ‘آنجہانی کے نام ایوارڈ شروع کرنے کا مطالبہ

انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام صدی تقاریب کا آغاز‘ جناب زاہد علی خاں ‘ مسٹر نرسمہا ریڈی و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 21جولائی (سیاست نیوز) ایڈیٹر سیاست جنا ب زاہدعلی خان نے آنجہانی کامریڈ راج بہادر گوڑ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ اُردو ادب کے دلدادہ او راُردو کے ایک طاقتور سپاہی تھے۔ انہو ںنے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیاکہ مخدوم محی الدین ایوارڈ کے طرز پر اُردو اکیڈیمی راج بہادر گوڑ کے نام پر بھی ایوارڈ جاری کرے تاکہ اُردو کے متعلق راج بہادر گوڑ کے خدمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں مدد مل سکے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیراہتمام راج بہاد رگوڑ کی صدسالہ تقاریب کے افتتاحی پروگرام میں صدر استقبالیہ کی حیثیت سے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانچ سال کی سیاسی زندگی میںلوگ کروڑ پتی بن جاتے ہیںمگر ہمہ پہلو خصوصیات کی حامل شخصیت راج بہادر گوڑ بیک وقت سرگرم سیاست داں‘ ٹریڈ یونین لیڈر‘ ادیب‘ مصنف وشاعر ہونے کے باوجود نہایت سادگی کی زندگی گذار تے تھے۔انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی ماضی کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب اضلاع میںانجمن کی ادبی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں تو راج بہادر گوڑ بس کا سفر کرکے پہنچتے مگرانہوں نے اپنی سہولت کیلئے کار تک نہیںخریدی ۔جناب زاہد علی خان نے کہاکہ مخدوم محی الدین ‘ منوہر راج سکسینہ‘ منان صاحب ‘ زینت ساجدہ جیسی اُردو کے سپاہیوں کے ساتھ راج بہادر گوڑ نے اُردو کیلئے بے شمار خدمات انجام دئے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ مخدوم اور راج بہادر گوڑ کو کبھی جدانہیں سمجھا جاسکتا۔ راج بہادر گوڑ نے اُردو اور سی پی آئی کی سربلندی کیلئے جوکام کیا اس کو حکومت کی جانب سے منظور کیاجاناچاہئے۔انہو ںنے مزیدکہاکہ راج بہادر گوڑ کے نام سے اُردو اکیڈیمی کا ایوارڈ نئی نسلوں کو اُردو کے ایک عظیم خدمت گذار کے کارناموں سے واقف کروانے کاایک بہترین ذرائع ثابت ہوگا۔انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے ذمہ داران کوبطور تجویز کہاکہ وہ اس ضمن میںایک قرارداد منظور کریں اور حکومت بالخصوص چیف منسٹر سے اس کی نمائندگی کریں ۔وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی نے راج بہا در گوڑ کو نیک اور ایماندار ٹریڈیونین لیڈر او رسی پی آئی کو بدعنوانیو ںسے پاک سیاسی جماعت قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ ٹریڈ یونین لیڈروں کو دولت کمانے کے بہت سارے موقع ملتے ہیںمگر سیاسی طور پر عزت اورشہرت ایماندار ٹریڈ یونین لیڈر کوملتی ہے اور ہمارے سامنے راج بہادر گوڑ اس کی ایک مثال ہیںجن کے مرنے کے بعد بھی آج انہیںعزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہوئے ہزاروں لوگ انہیںخراج پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ ان کے رکن اسمبلی منتخب ہونے پر راج بہادر گوڑ نے کہاتھا کہ چلو ایک ٹریڈ یونین لیڈر رکن اسمبلی بنا ہے جس سے ٹریڈ یونینوں کے مسائل کی یکسوئی ہوگی۔ مسٹر نرسمہا ریڈی نے حکومت تلنگانہ کی اُردودوستی کے حوالے سے کہاکہ نظام دور حکومت میںجس طرح اُردو کو سرکاری درجہ فراہم کیاگیا تھاٹھیک اسی طرح چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے اُردو کودوسری سرکاری زبان کادرجہ فراہم کیا‘ اقلیتوں کے لئے اقامتی اسکول قائم کئے اورحکومت کامنشاء ہے کہ جس طرح کیرالا میں خواندگی کاتناسب 100فیصد ہے اسی طرز پر تلنگانہ کوخواندگی میںبھی نمبر ون کا درجہ فراہم کریں۔ صدر انجمن ترقی پسند مصنفین جناب بیگ احساس نے کہا کہ راج بہادر گوڑ میں چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا ہنر تھا‘۔ انہو ںنے ہوم منسٹر کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راج بہادر گوڑ ایوارڈ کی تجویز کو دہرایا اور حکومت سے انجمن کی جانب سے نمائندگی کا اعلان کیا۔سابق رکن راجیہ سبھا جناب سیدعز یز پاشاہ نے کہاکہ طالب علمی کے زمانے میں جب میڈیکل میںداخلہ کیلئے سرگرم تھا اسی وقت راج بہادر گوڑ سے ملاقات ہوئی اور میںنے دیکھا کہ وہ ہمہ پہلو خصوصیات کے حامل ہونے کے باوجود مصائب زدہ لوگوں کیلئے سب کچھ چھوڑ کر میدان عمل میںسرگرم ہیں تو میںنے بھی سیاست میںداخلہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ میرے سرگرم سیاست کا حصہ بننے میں راج بہادر گوڑ شخصیت کافی عمل دخل رہا ہے۔ جناب احمد عالم خان‘ جنا ب غلام یزدانی ایڈوکیٹ‘ مسٹر بی نرسنگ رائو‘ مسٹر سدھا کر ریڈی‘ جناب علی جاوید‘ مسٹر راجندر راجن‘ پروفیسر ستیہ نارائینہ وائس چانسلر تلگویونیورسٹی او ردیگر نے بھی اس افتتاحی پروگرام سے خطاب کیا۔ بعدازاں غزل کے پروگرام کا بھی انعقاد عمل میںآیا۔ پروگرام کی کاروائی محبوب خان اصغر نے چلائی۔