راجیہ سبھا میں بی جے پی کیساتھ مفاہمت کی تردید

کولکتہ ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) ترنمول کانگریس نے آج ان خبروں کو مسترد کردیا کہ اس نے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کی ہے جہاں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ سی پی آئی ایم قائد محمد سلیم کے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری مکل رائے نے کہا کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ برائے لوک سبھا اور مرکزی کمیٹی کے رکن نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی کی کل ستائش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک مقامی ٹی وی چینل پر کہا تھا کہ اس کا مقصد راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کی تائید حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ترنمول کانگریس نے بی جے پی کی مرکزی حکومت کے ساتھ راجیہ سبھا میں مفاہمت کرلی ہے جہاں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ مکل رائے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سی پی آئی ایم کے الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ سی پی ایم قائد جو کچھ کہہ چکے ہیں اس کا جواب بھی نہیں دینا چاہتے۔ انہیں انتخابات میں عوام نے مسترد کردیا ہے۔ وہ بحیثیت سیاسی طاقت ناکارہ ہوچکے ہیں۔ مکل رائے لوک سبھا میں ترنمول کانگریس پارلیمانی پارٹی کے صدرنشین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاست کے تعلق ایک مختلف معاملہ ہیں اور سیاسی اپوزیشن دوسرا معاملہ ہے۔ ہم اپنی پالیسیوں کے مطابق عمل کریں گے۔ ہم بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کی نہ تو تائید میں ہے اور نہ کانگریس کی تائید میں۔ ہمارا موقف گذشتہ پارلیمنٹ میں بھی یہی تھا۔ مکل رائے نے جن کی پارٹی کے 34 لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ اور 12 راجیہ سبھا ارکان نے کہا کہ ترنمول کانگریس تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ اگر پارٹی کو حکومت کی کارروائیاں عوام کے مفاد میں نظر آئیں تو ان کی تائید کی جائے گی اور اگر مفادات کے خلاف ہوں تو ان کی مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے ترنمول کانگریس کی جانب سے یو پی اے کی دوسری میعاد کی حکومت کی کئی دستوری ترمیمی بلس کے موقع پر فراہم کردہ تائید کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں تقررات کے بارے میں قانون سازی کی جہاں ترنمول کانگریس کی جانب سے مخالفت کی گئی تھی وہیں اس نے غذائی طمانیت بل، اراضی اصلاحات بل اور آندھراپردیش کی تقسیم کے بل پر قانون سازی کی مخالفت کی گئی۔ اس سوال پر کہ کیا بی جے پی کو ریاست میں برسراقتدار پارٹی کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے سے دلچسپی نہیں ہے حالانکہ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کی مدد کے بغیر ریاست کی ترقی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات کا ایک وفاقی نظام ہے۔ جہاں مرکز اور ریاست کے تعلقات مختلف معاملہ ہیں۔ مودی نے کل ممتا بنرجی کی ستائش کرتے ہوئے انہیں اپنی بہن قرار دیا تھا۔