بی جے پی کو 37 فیصد، کانگریس کو 35 فیصد ووٹ ، اپوزیشن کو فائدہ ، چیف منسٹر کے گڑھ جھالوار ، دھول پور میں حکمراں پارٹی کو دھکہ
جئے پور۔20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے بلدی انتخابات میں کانٹے کے مقابلے کے درمیان حکمراں بی جے پی کو جملہ 3,351 وارڈس کے منجملہ 1443 پر کامیابی ملی ہے جبکہ کانگریس اور آزاد امیدواروں کے بشمول اپوزیشن پارٹیوں نے 1,908 وارڈس پر کامیابی حاصل کی ہے۔ آج جاری کردہ نتائج میں ریاست کے 129 بلدی حلقوں کیلئے 17 اگست کو رائے دہی ہوئی تھی۔ بی جے پی کو 66 اور کانگریس کو 35 مجالس مقامی میں کامیابی ملی۔ اجمیر میونسپل کارپوریشن کے بشمول 3,351 وارڈس کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے تاہم چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کے گڑھ سمجھے جانے والے حلقوں جھالوار اور دھول پور میں بی جے پی کو شدید دھکہ لگا ہے۔ گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں بُری طرح ناکام ہونے والی کانگریس نے بلدی انتخابات میں شاندار اور غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے اور اسے تقریباً 40 بلدی اداروں پر قبضہ حاصل ہوا ہے۔ بی جے پی کو صرف 17 پر کامیابی ملی ہے۔ دھالوار ضلع میں دو بلدی اداروں میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہے۔
یہ حلقہ چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کا اسمبلی حلقہ ہے اور ان کے فرزند دُشینت سنگھ لوک سبھا میں اسی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دھول پور میں کانگریس نے 3 بلدی اداروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اسی دوران بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ راجستھان بلدی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست کے عوام سے اظہار تشکر کیا اور پارٹی قائدین کی ستائش کی کہ انہوں نے بہترین مظاہرہ کیا ہے۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ وہ آزاد ارکان کی مدد سے 81 مجالس مقامی قائم کرے گی ۔ راجستھان کانگریس کے صدر سچن پائیلٹ نے کہا کہ بی جے پی نے ان انتخابات میں دھاندلیاں کی ہیں ۔ اس کے باوجود بی جے پی کو صرف 37 فیصد ووٹ ملے جبکہ کانگریس 35 فیصد ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے مقابل میں کانگریس کو صرف 4 فیصد کم ووٹ ملے ہیں۔ بی جے پی کے خلاف 63 فیصد رائے دہندوں نے ووٹ دیا ہے ، اس سے عوام کی رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ کانگریس ورکرس کی سخت محنت کے باعث ہی یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کو ان کے مضبوط گڑھ جھالوار دھول پور اور بارن اضلاع میں کانگریس کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی ہے۔ جھالر پٹن میونسپل بورڈ جہاں پر زائد از ایک دہے تک بی جے پی کا غلبہ تھا اب اس پر کانگریس نے قبضہ جما لیا ہے۔ آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کے ساتھ وسندھرا راجے کے مبینہ رابطہ کا انتخابات پر اثر پڑا ہے۔ اجمیر میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کو ناکامی ہوئی ہے جو کانگریس کے ریاستی صدر سچن پائلیٹ کا گڑھ تھا۔ کانگریس کو کشن گڑھ، ککاری، سرور اور وجے نگر میں ناکامی ہوئی ہے۔ سچن پائلٹ نے دعویٰ کیا کہ میونسپل انتخابات میں کانگریس کی فتح قابل لحاظ رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس او ربی جے پی کے ووٹ فیصد میں 26 فیصد کا فرق تھا ہم نے میونسپل انتخابات میں اس فیصد کو ایک فیصد تک لایا ہے۔