رائے دہی کے اوقات میں ایک گھنٹہ اضافہ

تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان میں 30 مارچ تک ناموں کی شمولیت : بھنورلال

حیدرآباد ۔ 18 مارچ ۔ ( سیاست نیوز ) مرکزی الیکشن کمیشن نے ریاست میں 30 اپریل اور 7 مئی کو منعقد ہونے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے لئے رائے دہی کے اوقات میں اضافہ کیا ہے اور اسطرح مجوزہ ریاستی اسمبلی و لوک سبھا انتخابات کیلئے رائے دہی کا آغاز صبح (7) بجے ہوگا اور اختتام (6) بجے شام ہوگا ۔ جبکہ سابق میں یہ اوقات صبح (7) تا (5) بجے شام تھے۔ گزشتہ دن مرکزی الیکشن کمیشن نے رائے دہی کے اوقات میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج شام ریاستی سکریٹریٹ میں واقع اپنے چیمبر میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی چیف الکٹورل آفیسر اندھراپردیش مسٹر بھنورلعل نے اس بات کا اعلان کیا اور بتایا کہ ایسے رائے دہندے جن کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل نہیں ہیں وہ رائے دہندے اپنے نام علاقہ تلنگانہ میں 30 مارچ تک اور سیما آندھرا علاقہ میں 9 اپریل تک درخواست پیش کرتے ہوئے شامل کرواسکتے ہیں۔ لہذا مسٹر بھنور لعل نے ایسے تمام افراد ( رائے دہندے ) جن کے نام ووٹر لسٹ میں درج نہ کروائے ہوں اس ذرین موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی پرزور اپیل کی ۔ انھوں نے کہاکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران یعنی انتخابی شیڈول کے اعلان ہونے کے بعد سے اب تک ) جملہ (6) لاکھ نئے افراد کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کئے گئے ۔ ریاستی چیف الکٹورل آفیسر نے کہا کہ اب تک کی مرتب کردہ فہرست رائے دہندگان کے مطابق ریاست میں جملہ رائے دہندگان کی تعداد (6,29,99,756) کروڑ ہے جبکہ اب تک (34) لاکھ دوہرے یا فرضی رائے دہندوں ( بوگس ) کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیا ( نکال دیا ) گیا ہے ۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر اقدامات کی تقسیم وغیرہ کے چلن کو روکنے کیلئے قبل از وقت ہی انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ۔ ان اقدامات کے ایک حصہ کے طورپر ہی ریاست بھر میں اہم قامات پر باقاعدہ طورپر (899) چیک پوسٹس قائم کئے گئے اور ان چیک پوسٹس سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کو تنقیح کرکے غیرمجاز طورپر منتقل کی جانے والی بھاری رقومات کو ضبط کیا جارہا ہے اور اسطرح اب تک ہی ( ابتدائی مرحلہ میں ہی ) تقریباً (38) کرڑ روپئے غیرمجاز طورپر منتقل کرتے ہوئے ضبط کرلئے گئے جبکہ گزشتہ انتخابات یعنی سال 2009 میں منعقدہ انتخابات کے اختتام تک صرف (36)کروڑ روپئے غیرمجاز طورپر منتقل کرنے کے دوران ضبط کئے گئے تھے لیکن اس مرتبہ صرف ابتداء میں ہی گزشتہ کے مقابلہ میں زیادہ رقومات ضبط کئے گئے ہیں۔ مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ ریاست بھر میں انتخابات کے لئے جملہ (911) فلائینگ اسکواڈز بھی بنائے گئے ہیں اور (1142) ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ ( ماڈل انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل آوری کا جائزہ لینے والی کمیٹیوں) کی بھی تشکیل عمل میں لائی گئی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں مقابلہ کئے ہوئے ایسے امیدوار جو اپنے انتخابی مصارف کے حسابات پیش نہیں کئے ان تمام امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان امیدواروں کی فہرستیں تمام ریٹرننگ آفیسرس کو روانہ کردی گئیں۔ اسطرح جملہ (7000) گزشتہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران غیرمجاز طورپر منتقل کئے جانے والا (20) کیلو سونا اور (121) کیلو چاندی بھی ضبط کی گئی ہے ۔ اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر بھنور لعل نے کہا کہ کل جماعتی قائدین کی خواہش کے مطابق عام انتخابات کے انعقاد تک بلدیات و پنچایتوں کیلئے منعقد ہونے والے انتخابی نتائج کو روک رکھنے کے مسئلہ کو مرکزی الیکشن کمیشن سے رجوع کردیا گیا اور اس سلسلہ میں ابھی انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے ۔