ذکی الرحمن لکھوی کو رہا کردینے پاکستانی عدالت کا حکم

نئی دہلی / اسلام آباد 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے آج واضح کردیا کہ اسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے جس میں لشکرطیبہ کے عسکریت پسند ذکی الرحمن لکھوی کو رہا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ہندوستان نے اس مسئلہ پر حکومت پاکستان کے ساتھ شدید اعتراض بھی درج کروایا ہے ۔ وزارت خارجہ میں آج پاکستانی ہائیا کمشنر عبدالباسط کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا گیا ۔ ہندوستان نے کہا کہ یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذکی الرحمن کو سلاخوں کے پیچھے ہی رکھے کیونکہ 2008 کے ممبئی حملوں میں اس کے رول کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لکھوی کی جیل سے رہائی کو روکنے تمام قانونی اقدامات کرے ۔

پاکستان کو یہ حقیقت قبول کرنی چاہئے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا ۔ یہ حقیقت ساری دنیا نے قبول کرلی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ لکھوی کے خلاف یہ واضح ثبوت موجود ہے کہ ممبئی حملوں کیلئے جو مجرمانہ سازش تیار کی گئی تھی اس میں لکھوی کا رول ہے تاہم اس کو پاکستانی ایجنسیوں نے عدالت میں مناسب انداز میں پیش نہیں کیا ہے ۔ کسی تاخیر کے بغیر یہ کام کیا جانا چاہئے ۔ واضح رہے کہ چند ہی گھنٹوں پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے لشکرطیبہ آپریشنس کمانڈر لکھوی کی رہائی کے احکام جاری کئے

اور اس کی گرفتاری کے احکام کو کالعدم قرار دیدیا ہے ۔ ذکی الرحمن لکھوی پر 2008 کے ممبئی حملوں میں ملوث رہنے کا الزام ہے ۔ جسٹس نورالحق نے لکھوی کی اپیل کو قبول کرلیا جو اس نے اپنی تیسری مرتبہ حراست کے خلاف دائر کی تھی ۔ عدالت نے لکھوی کی فوری رہائی کے احکام جاری کئے ہیں۔ لکھوی کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ وہ عدالت کا حکمنامہ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے انتظامیہ کو پیش کرینگے تاکہ ان کے موکل کی فوری رہائی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حکمنامہ موصول نہیں ہوا ہے ۔ یہ ملتے ہی لکھوی کی رہائی کیلئے جیل حکام کو پیش کردیا جائیگا ۔ 30 دن کی حراست کے حکمنامہ کی معیاد جاریہ ہفتے ختم ہورہی تھی ۔ لکھوی نے گذتہ مہینے ہی عدالت میں اپیل دائر کرکے عوامی نظم کی برقراری قانون کے تحت اپنی حراست کو چیلنج کیا تھا ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے جب پاکستان میں عدالت نے لکھوی کی حراست کو دوسری مرتبہ کالعدم قرار دیا ہے۔ سابق میں بھی ہندوستان نے شدید رد عمل ظاہر کیا تھا ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عدالت میں ثبوت وںکو مناسب انداز میں پیش نہیں کیا ہے ۔

لکھوی کیس : ہندوستانی قاصد کی بھی پاکستان میں طلبی
اسلام آباد ، 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جیسے کو تیسا والے اقدام میں پاکستان نے آج ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر متعینہ اسلام آباد جے پی سنگھ کو طلب کیا اور کہا کہ ہندوستان کا لشکر طیبہ کے دہشت گرد اور ممبئی حملہ کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کیلئے عدالتی حکمنامہ پر ردعمل ’’غیرضروری اور غیردانش مندانہ‘‘ ہے، جبکہ اس نے نئی دہلی کو اس کیس میں ’’ٹھوس ثبوت‘‘ دینے میں ناکام ہوجانے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ یہ جوابی کارروائی اس تبدیلی کے تھوڑی دیر بعد ہوئی جس میں پاکستان ہائی کمشنر متعینہ نئی دہلی عبدالباسط کو کارگزار معتمد خارجہ انیل وادھوا نے طلب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکمنامہ کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا تھا۔ جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے پاکستانی حکومت کی طرف سے انھیں مطلع کیا گیا کہ عدالتی حکمنامہ کا مطلب اس کیس کا خاتمہ نہیں ہے۔