ممبئی ۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ممبئی میں جنم اشٹمی کا تہوار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں ’’گووندہ‘‘ کہتے ہیں۔ بلندیوں پر دہی کی ہانڈی کے ساتھ ہزاروں روپئے (کبھی کبھی لاکھوں روپئے) کی تھیلی بھی باندھ دی جاتی ہے اور نوجوان اس اونچائی پر پہنچنے اور دہی کی ہانڈے پھوڑ کر رقم حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کے کاندھوں پر چڑھتے ہوئے ایک بلند مینار بنا لیتے ہیں جسے انگریزی اصطلاح میں Human pyramid کہا جاتا ہے اور اس طرح جب ہنڈی پھوٹ جاتی ہے اور سب سے اونچائی پر رہنے والا شخص رقم حاصل کرلیتا ہے تو اس بلند مینار کو بنانے والے جب الگ ہوتے ہیں تو کبھی کبھی اونچائی سے گرنے والے کو شدید چوٹیں آتی ہیں اور کبھی کبھی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ کل ایسے ہی ایک واقعہ میں 17 افراد زخمی ہوگئے جنہیں سائن اور کیم ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک رولنگ دی تھی جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو انسانی بلند مینار بنانے والے افراد میں شامل کئے جانے پر امتناع عائد کیا گیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار زخمیوں کی تعداد بہت کم ہے،کیم ہاسپٹل کی ڈاکٹر شبھانگی پرکار نے یہ بات بتائی۔