نئی دہلی 6 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جی این سائی با با کو گذشتہ دنوں مہاراشٹرا کی پولیس نے دہلی یونیورسٹی کے احاطہ سے گرفتار کیا ۔ ان پر ماؤیسٹوں سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ سائی بابا کو دہلی میں گرفتار کرکے فوری ناگپور منتقل کرتے ہوئے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ سائی بابا سے تعلق رکھنے والے ان کے دوست احباب اور حقوق انسانی کارکنوں نے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا کہ ان کی گرفتاری کی ان کے افراد خاندان اور دوست احباب کو بھی اطلاع نہیں دی گئی اور انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ڈیوٹی پر تھے ۔
سائی بابا کے دوستوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سائی بابا کو ستمبر 2013 سے ہی سائی بابا کو ہراساں کیا جا رہا تھا ۔ دہلی یونیورسٹی کے کیمپس میں ان کے رہائشی کوارٹرس کی تلاشی لی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہاں سے چوری کا کچھ مال ضبط کرنا ہے ۔ پولیس نے ان کے شخصی کمپیوٹر کے ڈسکس ‘ پین ڈرائیوز ‘ ڈی وی ڈیز وغیرہ ضبط کرلئے تھے ۔ این آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی پہلے سے کوششیں کی جا رہی تھیں اور ان پر ماؤیسٹوں سے تعلقات کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔ سائی بابا دلتوں ‘ آدی واسیوں اور سماج کے دوسرے دبے کچلے طبقات کیلئے سرگرم رہتے ہیں اور وہ دستور ہند کے دائرہ کار میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ انہیں نے کئی مرتبہ واضح کیا تھا کہ وہ سی پی آئی ماؤیسٹ سے کوئی تنظیمی تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کا کسی اور ممنوعہ جماعت سے تعلق ہے ۔ سائی بابا اور ان کے افراد خاندان نے پوچھ تاچھ کے وقت ہمیشہ ہی پولیس سے تعاون کیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ وہ 90 فیصد معذور ہیں ۔ انہیں فالج کے حملہ کا شکار رہنا پڑآ تھا ۔
اس کے باوجود انہیں جیل میں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہیں صرف ایک وہیل چئیر فراہم کی گئی ہے حالانکہ وہ کسی اور کی مد کے بغییر روز مرہ کے معمولات ادا نہیں کرسکتے ۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔ وہاں روشنی اور ہوا کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے ۔ اس صورتحال میں یہ قیاس تک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی کیلئے کوئی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ سائی بابا کے ساتھیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ناگپور سنٹرل جیل میں بنیادی سہولتیں اور ادویات فراہم کی جائیں ۔ ان کے خلاف جو مقدمات درج کئے گئے ہیں ان کو ختم کیا جائے ۔ اور دہلی یونیورسٹی حکام کی جانب سے انہیں جو معطل کیا گیا ہے ان احکام کو واپس لیا جائے ۔
سائی بابا کے دوست احباب نے کہا ہے کہ آہیری عدالت کے مجسٹریٹ نے پولیس کو واضح ہدایت دی تھی کہ انہیں ڈاکٹرس کے مشورہ کے مطابق ادویات فراہم کی جائیں لیکن جیل میں ایسا نہیں کیا جارہا ہے حالانکہ انہیں قلب کا بھی عارضہ لاحق ہے ۔ وہ ہائپر ٹنشن کے بھی مریض ہیں اور مسلسل ادویات کی ضرورت رہتی ہے ۔ ڈاکٹر جی این سائی بابا نے جیل میں بھی احتجاج شروع کردیا ہے اور وہ وہاں بنیادی سہولیات اور ادویات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری پر کئی جمہوریت پسند ‘ دانشور ‘ عوامی تنظیموں ‘ طلبا اور اساتذہ اسوسی ایشنوں نے احتجاج کیا ہے ۔ انہوں نے ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے غیر مشروط رہائی کا بطی مطالبہ کیا ہے ۔ ان میں جسٹس راجندر سچر ‘ اروندھتی رائے ‘ پروفیسر امیت بھنڈاری ‘ نندیتا نارائن ‘ سنجے کاک ‘ ہریش دھون ‘ پروفیسر بی سرینواس ‘ پروفیسر کودانڈا رام ‘ بوجا تارکم ‘ چکا رامیا وغیرہ شامل ہیں۔ سائی بابا کے دوستوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ سائی بابا کو غیر مشروط رہا کیا جائے اور جو مقدمات درج کئے گئے ہیں ان سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔ علاوہ ازیں سائی بابا کی گرفتاری پر احتجاج کرنے اور حکومت پر اثر انداز ہونے کی تمام جمہوریت نواز تنظیموں و افراد سے اپیل کی گئی ہے ۔