نئی دہلی ۔ 20 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے 21 ارکان کو پارلیمنٹری سکریٹریز کی حیثیت سے تقرر سے متعلق چیف منسٹر اروند کجریوال کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لیے داخل کردہ ایک عرضی پر مرکزی حکومت ، دہلی کے لیفٹننٹ گورنر اور عاپ حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔ چیف جسٹس جی روہنی اور آر ایس اینڈ لا پر مشتمل بنچ نے مفاد عامہ کی ایک درخواست پر عام آدمی پارٹی کے 21 ارکان اسمبلی سے بھی وضاحت طلب کی ہے ۔ جس میں یہ ادعا کیا ہے کہ بحیثیت پارلیمانی سکریٹریز تقرر غیر دستوری اور غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔ بنچ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس معاملہ پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے اس عرضی پر آئندہ سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے تاکہ متعلقہ حکام اپنے حلف نامے داخل کرسکیں ۔ ایک غیر سرکاری تنظیم راشٹریہ مکتی مورچہ کی عرضی پر عدالت نے سماعت کے لیے قبول کرلی ۔ جس میں پارلیمانی سکریٹریز کے تقررات سے باز رکھنے کے لیے وزارت داخلہ ، کجریوال ، اور لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کو ہدایت دینے کی گذارش کی گئی ہے ۔ مفاد عامہ کی درخواست میں چیف منسٹر کجریوال کے 13 مارچ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور بتایا کہ چیف منسٹر نے غیر دستوری اور غیر قانونی طریقہ سے عام آدمی پارٹی کے 21 ارکان اسمبلی کا بحیثیت پارلیمانی سکریٹریز تقرر عمل میں لایا ہے ۔