نئی دہلی ، 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں زبردست انتخابی مسابقت کیلئے ماحول پوری طرح تیار ہے، جہاں اسمبلی انتخابات میں 70 نشستوں کیلئے کل پولنگ منعقد کی جائے گی جبکہ اس چناؤ کو وزیراعظم نریندر مودی پر ریفرینڈم سمجھا جارہا ہے حالانکہ اس رائے کو بی جے پی قیادت نے مسترد کیا ہے۔ قومی دارالحکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے جاری انتخابی لڑائی میں پُرجوش عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو سخت چیلنج پیش کیا ہے جس نے اپنا سارا داؤ نریندر مودی کے امیج پر لگا رکھا ہے۔ زائد از 1.33 کروڑ رائے دہندے دہلی اسمبلی چناؤ کیلئے انتخابی میدان میں موجود 673 امیدواروں کی انتخابی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔
ان میں سے بی جے پی کی کرن بیدی، عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال اور کانگریس کے اجئے ماکن سب سے نمایاں امیدوار ہیں۔ رائے دہی 12,177 پولنگ اسٹیشنوں میں منعقد ہوگی، جن میں سے 714 انتخابی مراکز ’’پُراندیشہ‘‘ قرار دیئے گئے ہیں۔ اور ان میں سے 191 مراکز ’’نہایت پُراندیشہ‘‘ ہیں۔ بی جے پی جو دہلی میں گزشتہ 16 سال سے اقتدار سے دور ہے، اس نے سابقہ ٹیم انا ممبر کرن بیدی کو پارٹی میں لاتے ہوئے انھیں اپنا وزارت اعلیٰ امیدوار بنا کر سیاسی جوکھم بھرا اقدام کیا ہے، جس سے بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین اور صفوں میں بے چینی شروع ہوگئی۔ بی جے پی کی حکمت عملی کا بھرپور جواب کجریوال زیر قیادت عام آدمی پارٹی نے دیا ہے، جس نے زبردست مہم چلاتے ہوئے مودی لہر کو روکنے کی سعی کی ہے، جو گزشتہ سال مئی میں لوک سبھا انتخابی فتح کے بعد سے کامیاب ہوتی آئی ہے۔
بی جے پی قائدین امیت شاہ اور مرکزی وزراء ایم وینکیا نائیڈو اور ارون جیٹلی نے ایسی باتوں کو مسترد کردیا ہے کہ دہلی الیکشن مودی حکومت کی کارکردگی پر کوئی ریفرینڈم ہے، جو ایسا بیان ہے جسے نقادوں نے وزیراعظم کو تنقید سے بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کانگریس جس نے دہلی پر ڈسمبر 2013ء تک مسلسل 15 سال حکمرانی کی، اسے ماقبل چناؤ منعقدہ متعدد سروے میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی سے کافی پیچھے بتایا گیا ہے۔ بعض اوپینین پولس نے عام آدمی پارٹی کو واضح اکثریت دی ہے جبکہ چند دیگر نے بی جے پی کی جیت کی پیش قیاسی کی ہے۔ اس چناؤ کیلئے انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 673 امیدوار ہیں۔ شمالی دہلی کے حلقہ بوراری میں سب سے زیادہ 18 امیدوار ہیں جبکہ جنوبی دہلی کی امبیڈکر نگر نشست 4 دعویداروں کی اقل ترین تعداد رکھتی ہے۔ اس الیکشن میں 63 خاتون امیدوار انتخاب لڑرہی ہیں جبکہ 2013ء میں یہ تعداد 71 تھی۔ انتخابی پیانل نے عمل رائے دہی کے پُرسکون اور پُرامن انعقاد کیلئے وسیع تر انتظامات کئے ہیں۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوگی اور شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔ دارالحکومت شہر میں 14 مقامات پر 70 ’اسٹرانگ رومس‘ قائم کئے گئے ہیں جہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں پولنگ کے بعد محفوظ کی جائیں گی۔
بی جے پی میں داخلی سطح پر سب کچھ ٹھیک نہیں ؟
دہلی اسمبلی انتخابات سے عین قبل جبکہ انتخابی مہم کافی سخت اور تلخی سے بھرپور رہی، بی جے پی کے اندرون سب کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہورہا ہے۔ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہفتہ کو عام ووٹروں تک پہنچنا اور انھیں ووٹ دینے کیلئے کچھ زحمت اٹھانے کی کامیاب تحریک دینا ہوچکا ہے۔ زعفرانی جماعت کیلئے فکرمندی کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ کئی عوامل اس کے خلاف پائے جاتے ہیں۔ ماقبل چناؤ سروے ، دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی عام آدمی پارٹی کو ٹھوس تائید سے لیکر کئی پارٹی قائدین کے بیانات کہ دہلی الیکشن نریندر مودی حکومت پر ریفرینڈم نہیں ہوگا۔ بی جے پی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو بی جے پی پر سبقت ظاہر کرنے والے سروے سے اروند کجریوال زیر قیادت پارٹی کو فائدہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ ایسے ووٹرس جنھوں نے ابھی کچھ طئے نہیں کیا، اکثر ممکنہ کامیاب پارٹی کی طرف چلے جاتے ہیں۔