نئی دہلی ۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ نے آج پاکستان سے بھرپور یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے پشاور کے ایک اسکول پر گذشتہ روز ہوئے دہشت گرد حملہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اس حملے میں 132 کمسن اسکولی بچوں کے علاوہ دیگر 9 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکومت ہند نے کہا کہ انسانیت پر یقین رکھنے والوں کیلئے اب وقت کا تقاضہ ہیکہ وہ دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے متحد ہوجائیں۔ پشاور میں گذشتہ روز ہوئے انتہائی وحشیانہ اور بربریت انگیز حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد اور احترام میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام ارکان نے ایستادہ ہوکر دو منٹ کی خاموشی منائی۔ لوک سبھا میں اسپیکر سمترا مہاجن کی طرف سے پیش کردہ قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے علاوہ غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہارکیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہیکہ ’’ایوان اس وحشیانہ، حواس باختہ اور بزدلانہ دہشت گرد حملہ پر سخت رنج و غز کا اظہار کرتا ہے اور اس بربریت انگیز واقعہ کی مذمت کرتا ہے‘‘۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’’اور یہ عہد کیا جاتا ہیکہ تمام بے قصور افراد بالخصوص غیرمحفوظ بچوں کے خلاف تمام بربریت انگیز دہشت گرد حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس قسم کے وحشیانہ و بہیمانہ حملوں کے سازشیوں اور سرغنوں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں‘‘۔
راجیہ سبھا میں صدرنشین حامد انصاری نے کہا کہ ’’حواس باختہ، بہیمانہ و بزدلانہ اقدام قابل مذمت ہے۔ اس واقعہ میں بے قصور و کمسن جانوں کا اتلاف یقیناً انتہائی المناک اور بدبختانہ ہے۔ یہ واقعہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ہمارے عہد کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہیکہ دہشت گردی کے خلاف مزید پختہ عزم اور پامردی کے ساتھ کارروائی کی جائے‘‘۔ بعدازاں ایوان بالا کے تمام ارکان نے مسٹر حامد انصاری کی قیادت میں دومنٹ کی خاموشی مناتے ہوئے پشاور سانحہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت ادا کیا۔ لوک سبھا میں وزیرخارجہ سشماسوراج نے پشاور دہشت گرد حملے اور اس سے ایک دن قبل آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں یرغمالیوں کے بحران پر بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’گذشتہ دو دنوں کے دوران دو براعظموں میں اور ہماری دو مختلف سمتوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں وہ اگرچہ بظاہر ایک دوسرے سے جداگانہ نظر آتے ہیں لیکن ان دونوں واقعات سے دہشت گردی کے تاریک سائے کی جھلک ملتی ہے‘‘۔ شریمتی سشماسوراج نے کہا کہ ’’یہ دونوں واقعات جو تقریباً ایک ساتھ ہوئے ہیں جو انسانیت پر یقین والوں سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ دہشت گردی کو قطعی اور فیصلہ کن شکست دینے کیلئے متحد ہوجائیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں ہندوستان اپنا رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ وزیرخارجہ نے راجیہ سبھا میں بھی ایسا ہی بیان دیا اور کہا کہ ہندوستان کے انتہائی مشرق کے شہر سڈنی میں ہوئے دہشت گرد حملے کے صدمہ سے باہر آنے سے قبل ہی ہندوستان اپنے مغرب پشاور میں حالیہ عرصہ کی بدترین، خوفناک و وحشتناک ہلاکتوں کو دیکھا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ’’اس جرم کی سنگینی، قتل عام کی بزدلانہ نوعیت، 132 معصوم اسکولی بچوں اور دیگر 9 افراد کی بربریت انگیز و بہیمانہ ہلاکتوں کی دنیا بھر میں سخت ترین مذمت کی جارہی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اس واقعہ کی واضح اور پرزور مذمت کرتی ہے۔ شریمتی سشماسوراج نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس واقعہ کو ناقابل بیان بہیمانہ بربریت کی حواس باختہ حرکت قرار دیتے ہوئے ساری ہندوستانی قوم کے جذبات و احساسات کی جھلک پیش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس تاریک ترین لمحات میں ہم نے اختلافات اور سرحدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان تک رسائی کی اور غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔