دہشت گرد تنظیمیں اسلامی تعلیمات سے دور

کراچی ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں 200 علمائے دین ایسے ہیں جنہوں نے خودساختہ دولت اسلامیہ، ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، بوکوحرام اور دیگر نام نہاد جہادی تنظیموں کو گمراہ کن تنظیموں سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہ تنظیمیں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام نہیں کررہی ہیں۔ اتوار کو علمائے دین کی ایک کانفرنس میں علمائے دین نے خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے اسے اسلام کے مغائر قرار دیا۔ معروف اخبار ڈان کی اطلاع کے مطابق فتوے کو مولانا ضیاء الحق نقشبندی نے میڈیا کو پیش کیا اور کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں جس انداز میں سرگرم ہیں وہ غیراسلامی طریقہ ہے اور چونکہ انہیں اسلامی تعلیمات کے بارے میں مکمل طور پر آگہی نہیں ہے۔ لہٰذا ان کا طرز فکر بھی محدود اور نقائش سے پُر ہے۔ علمائے دین کا کہنا ہیکہ یہ نام نہاد جہادی تنظیمیں ان حالات اور شرائط سے بالکل ناواقف ہیں جن کے بارے میں کسی جہاد کے آغاز سے قبل واقفیت ہونا ضروری ہے اور ایسے عناصر جو مسلکی بنیاد پر فساد برپا کررہے ہیں، اس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ فتوے کے ذریعہ ان عناصرکو بھی گمراہ قرار دیا گیا ہے جو پولیو سے نجات مہم کی مخالفت کررہے ہیں۔ خاتون ہیلتھ ورکرس کو ہلاک کرنے والے سب سے بڑے محروم ہیں اور غیرمسلموں کی عبادتگاہوں پر حملہ کرنے والے سب سے بڑے گنہگار ہیں کیونکہ کسی بھی اسلامی حکومت کا یہ فرض عین ہیکہ وہ غیرمسلموں کو بھی تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ بھی اسلامی حکومت کے زیرسائے خود کو محفوظ تصور کریں۔ کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 22 مئی کو یوم امن و آشتی کے طور پر منایا جائے گا اور غیرقانونی ہلاکتوں کے خلاف ملک کی چار لاکھ مساجد میں خصوصی خطاب ہوں گے۔ جناب نقشبندی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو کچلنے ایک علماء بورڈ تشکیل دیا جائے گا جبکہ ’’دہشت گردی کو مٹاؤ اور ملک کو بچاؤ‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ایک تحریک کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت ؐ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ اس کانفرنس کا انعقاد اس دلدوز واقعہ کے کچھ روز بعد ہی کیا گیا ہے جہاں بندوق برداروں نے کراچی کے صفورہ چوک میں اسماعیلی فرقہ کے 45 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا جس میں 13 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔