سڈنی۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی ایباٹ نے آج اشارہ دیا کہ دہشت گردی کے خطروں کا مقابلہ کرنے سرحدوں پر کنٹرول ضروری ہے۔ چنانچہ سرحدی علاقوں میں دھاوے کئے جائیں گے۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ ’بُرے افراد کو آسٹریلیا سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ گزشتہ ہفتہ پولیس نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک امکانی حملہ کو ناکام بنادیا ہے اور دو افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ دونوں حالیہ برسوں میں آسٹریلیا پہنچے تھے۔ سڈنی میں ایک دھاوے کے دوران ان دونوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ وزیراعظم آسٹریلیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ زیادہ عرصہ تک ہمیں ملک کے مفاد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جس کو دہشت گردی کا خطرہ ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری سرحدات مشکوک ہیں۔ رہائش کے شک کا فائدہ اُٹھاکر مشتبہ افراد آسٹریلیا کی شہریت حاصل کرسکتے ہیں اور کئی فلاحی اسکیموں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ عراق کے متوطن عمر الخطابی اور محمد ریاض جو کویت کا متوطن ہے، گرفتار کرلئے گئے تھے اور ان پر فرد جرم عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایک دہشت گرد حملہ کی تیاری کررہے ہیں
جو دولت اسلامیہ کے پرچم تلے کیا جانے والا تھا۔ ان کے قبضہ سے دھاوے کے دوران ہتھیار اور ایک ویڈیو فلم ضبط کی گئی تھی۔ جمعہ کے دن تفتیش سے پولیس کو پتہ چلا کہ ایک عبادت گاہ ان کے حملہ کا نشانہ تھی۔ الخطابی پر شبہ ہے کہ وہ آسٹریلیا میں جعلی دستاویزات کے ذریعہ 2009ء میں داخل ہوا تھا اور اسے 2003ء میں شہریت دے دی گئی تھی۔ ریاض 2012ء میں آسٹریلیا پہنچا تھا۔ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ ایرانی نژاد خود ساختہ عالم دین ہارون مونس کو دسمبر میں سڈنی کیفے کے مہلک محاصرہ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسے 1996ء میں ویزا دیا گیا تھا، حالانکہ ایران نے اس کے مجرمانہ ماضی کے بارے میں آسٹریلیا کو خبردار کردیا تھا۔
مونس فی الحال سڈنی کے واقعہ کے سلسلہ میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور اس پر کئی الزامات عائد ہیں جن میں ایک جنسی جرم اور اس کی سابقہ بیوی کے قتل کا الزام بھی شامل ہے۔ وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی ایباٹ نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ہماری عدالتوں میں اس شخص کو ضمانت پر رہائی منظور کی گئی، حالانکہ اسے قید میں رکھا جانا چاہئے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک ایک آزاد اور منصف مزاج ملک ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے افراد کو کھلا چھوڑ دیا جائے جو ہمارے ملک کی سلامتی سے کھلواڑ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افراد کو روکنا ضروری ہے۔ ایباٹ نے ان تبدیلیوں کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا جس کی وہ منصوبہ بندی کررہے ہیں، تاہم کہا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر ایک قومی سلامتی بیان جاری کریں گے۔ ستمبر میں آسٹریلیا نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح میں اضافہ کا اعلان کیا تھا۔
سڈنی اور برسبین میں دولت اسلامیہ کے حامیوں کے ایک منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے کثرت سے دھاوے کئے گئے تھے۔ مبینہ طور پر عوام میں سے ایک شخص کو اغواء کرکے برسرعام اس کا سر قلم کئے جانے کا منصوبہ تھا تاکہ عوام پر دولت اسلامیہ کا خوف طاری ہوجائے۔ مشرق وسطیٰ کے دہشت گرد گروپس کی وجہ سے کئی ممالک کو دہشت گردی کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ دھاوے کے دوران دہشت گردی کے مشتبہ ملزمین کی گرفتاری کے علاوہ ان کے قبضہ سے دولت اسلامیہ کا ایک پرچم اور ایک کیمرہ فون ضبط کیا گیا ہے۔ دسمبر میں مونس نے 17 افراد کو 16 گھنٹے تک وسطی سڈنی کے ایک کیفے میں یرغمال بنا رکھا تھا جس سے پورا آسٹریلیا دہل گیا تھا۔ دولت اسلامیہ کے خفیہ شعبے کئی ممالک میں قائم ہونے کی اطلاعات پر مغربی حمایت یافتہ ممالک سہمے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی دولت اسلامیہ پر عنقریب امتناع عائد کئے جانے کا امکان ہے۔