دہشت گردی پر وائیٹ ہاؤس میں کانفرنس

واشنگٹن 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وائیٹ ہاؤز میں پرتشدد انتہا پسندی کے مقابلہ کے موضوع پر ایک چوٹی کانفرنس کا آج آغاز ہوا، جس میں ہندوستان سمیت 60 ممالک شرکت کررہے ہیں۔ یہ چوٹی کانفرنس دولت اسلامیہ کے خوفناک عروج اور فرانس اور ڈنمارک میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے پس منظر میں منعقد کی جارہی ہے۔ 3 روزہ چوٹی کانفرنس کے پہلے دو دن بنیادی طور پر داخلی انتہا پسندی کے لئے مختص کئے گئے ہیں کیونکہ داخلی طور پر بھی دہشت گردی میں ٹھوس اضافہ ہوا ہے۔ تیسرے اور آخری دن تمام 60 ممالک بشمول وزراء غیر ملکی جنگجوؤں اور دیگر مسائل پر غور و خوض کریں گے۔ ہندوستان گزشتہ کئی برسوں سے غیر ملکی تائید یافتہ دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے۔ اندرون ملک پرتشدد انتہا پسندی بشمول نکسلائٹس اور ماؤسٹس بھی ایک چیالنج ہیں۔ صدرنشین مشترکہ سراغ رسانی کمیٹی آر این روی ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ چوٹی کانفرنس کا ایجنڈہ بھرپور اور انتہائی پُرعزم ہے۔ اِس کے تحت پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد اور مقابلہ کے لئے عالمی تعاون میں مزید اضافہ کرنا شامل ہے۔ کانفرنس میں داخلی اور بنین الاقوامی کوششوں پر روشنی ڈالی جائے گی جن کا مقصد پرتشدد انتہا پسندی اور اِس کے بنیاد پرست حامیوں کے خلاف بین الاقوامی کوششیں ہیں۔ امریکہ میں اور بیرون امریکہ تشدد کی کارروائیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور حالیہ عرصہ میں دنیا بھر میں المناک حملوں کے پیش نظر اِس چوٹی کانفرنس کا انعقاد ضروری ہوگیا تھا۔ صدر امریکہ بارک اوباما کی زیرقیادت اُن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار بشمول وزیر خارجہ اور مشیر قومی سلامتی وائیٹ ہاؤز کی چوٹی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔