دہشت گردی سے اجتماعی مقابلہ ضروری : سشما سوراج

کٹھمنڈو۔ 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کو اس علاقہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ اس کے اجتماعی جواب کی ضرورت ہے۔ سارک کو چاہئے کہ اس لعنت سے تین محاذوں ثقافت، تجارت، روابط پر مقابلہ کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی گہری اور پائیدار ہوسکے۔ سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے بہتر سڑکوں، ریلوے، سمندری اور فضائی ربط پر زور دیا اور کہا کہ رکن ممالک کو معاشی ترقی پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک کو اپنی پالیسی میں اولین ترجیح دیتا ہے تاکہ اس علاقہ کی بحیثیت مجموعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ افغانستان میں حالیہ خودکش حملہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حرکت سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ دہشت گردی اس علاقہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کا اجتماعی جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے افغانستان کی حکومت اور عوام کو اس ہولناک سانحہ پر اظہار تعزیت بھی کیا۔ سارک کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ نئی بی جے پی زیرقیادت حکومت ہمہ جہتی ترقی کے نظریہ پر عمل پیرا ہے اور چاہتی ہے کہ اس ہندوستانی نظریہ کو یہ علاقائی گروپ بھی اختیار کرلے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی حکومت پڑوسی ممالک کو ترجیح دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سارک ممالک کے سربراہان مملکت کو اپنی تقریب حلف برداری میں اسی لئے مدعو کیا تھا اور اس نظریہ کی وجہ سے وہ یہاں کا سفر کرنے پر مجبور ہوگئیں، حالانکہ انہیں اپنا عہدہ سنبھالے ہوئے صرف چھ مہینہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام 8 رکن ممالک تیز رفتار ترقی کرسکتے ہیں اور اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں، ایسا ہونے کے لئے سارک کو موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور علاقائی معاشی تعاون کے لئے تحریک دینے والا گروپ خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ یہ علاقہ محفوظ تر، مضبوط تر اور بہتر بنے۔ انہوں نے روابط کی بہتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سارک کو مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے اور ایسے منفرد طریقے دریافت کرنے چاہئیں جن کے ذریعہ تمام سارک ممالک کو سڑک ، ریل ، سمندر اور فضاء کے راستے سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ روابط میں اضافہ سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، لاگت میں کمی ہوتی ہے، معاشی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ غربت کا انسداد بھی ہوتا ہے۔ کل سے شروع ہونے والی سارک چوٹی کانفرنس میں تمام رکن ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس دو روزہ ہوگی۔ سارک آئندہ سال اپنے قیام کی 15 ویں سالگرہ بھی منائے گا۔