دھولیہ فساد کی رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے :نسیم خان

ناگپور، 19جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹر کے دھولیہ شہر میں 2013 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات جس میں 6افراد ہلاک ہوئے تھے اوردرجنوں زخمی ہوئے تھے ، اس کی عدالتی تحقیقات کی گئی رپورٹ کومنظرِ عام پر لائی جائے اور خاطی پولیس اہلکاروںکو سخت سزا نیز مہلوکین کے ورثائاورمتاثرین کو معاوضہ دیا جائے ۔ اس قسم کا مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر اسمبلی کے جاری مانسون اجلاس میں ریاست کے سابق وزیر اقلیتی بہبود وسینئر کانگریسی رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے ایوان میں کیا جس پر وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس نے ‘یک سطری’ جواب دیتے ہوئے صرف یہ کہا کہ اس ضمن میں کارروائی کی جائے گی۔ اسمبلی میں نسیم خان نے کہا کہ دھولیہ فسادات ے بعد سابقہ کانگریسی حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس کے یو چاندیوال کی سربراہی میں یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا جس کے فساد کی تحقیق کرنا اور خاطیوں کی نشاندہی کرنا واس ضمن کی دیگرذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس چاندیوال نے اپنی عدالتی رپورٹ کو سربہ مہر لفافے میں ریاستی حکومت کے حوالے کی ہے لہذا اسے منظرِ عام پر لیا جائے ۔ سابق وزیر نے کہا کہ سابقہ حکومت نے اس فساد کے بعد خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنا، متاثرین کو انصاف دلانے نیز زخمیوں وشہداکے اہلِ خانہ کو معاوضہ دلانے کا وعدہ کیا تھا، جس کا انحصار اس عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر ہی تھا اور اس کی سفارشات کے نفاذ کے بعد ہی یہ تمام چیزیں ممکن تھیں۔ لہذا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ رپورٹ کو جلد ازجلد منظرِ عام پر لایا جائے اور خاطیوں کو سزادی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف حاصل ہو۔