بغداد /6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے گروپ نے قدیم اسیریائی شہر نمرود کو جو عراق میں ہے، زمین بوس کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ملک کے تاریخی ورثہ پر جہادیوں کا تازہ ترین حملہ ہے۔ وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اپنی سرکاری فیس بک کے صفحہ پر کل اس کی اطلاع دی۔ تاحال ہم نہیں جانتے کہ کس حد تک تباہی ہوئی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ایک سینئر عہدہ دار نے کہا کہ نمرود اسیریائی دور کا ایک بیش قیمت ہیرا تھا، جس کی بنیاد تیرہویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔ یہ دریائے دجہ کے کنارے شہر موصل سے تقریباً 30 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ نیو یارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ برائے عراق عبد الامیر ہمدانی نے کہا کہ آئندہ ہدف ہاترا ہوسکتا ہے۔ وہ ایک خوبصورتی سے محفوظ شہر کا حوالہ دے رہے تھے، جو صوبہ نینوا میں ہے اور تقریباً دو ہزار سال قدیم یونیسکو کا عالمی تہذیبی ورثہ کا حامل شہر ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ تمدن برائے عراق کے ڈائرکٹر ایکسل پلیت نے کہا کہ یہ تباہی ایک اور پریشان کن حملہ ہے،
جو عراق کے تمدنی ورثہ پر کیا گیا ہے۔ شہر نمرود عظیم ترین آثار قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک ہے، جو بیسویں صدی میں کی گئی تھیں۔ 1988ء میں ایک ٹیم نے جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر کھود نکالے تھے۔ یہ جواہرات مختصر سے وقت کے لئے عراق کی قومی میوزیم سے عوامی مشاہدہ سے دور ہو گئے تھے، لیکن لوٹ مار سے بچ گئے، جو 2003ء امریکی حملہ کے بعد ہوئی تھی اور آخر کار یہ سنٹرل بینک کی عمارت میں دستیاب ہوئے۔ شہر نمرود کے لاقیمت مصوری کے شاہکار مختلف میوزیمس میں جو موصل، بغداد، پیرس، لندن اور دیگر مقامات پر واقع ہیں، منتقل کردیئے گئے ہیں، تاہم لاماسوس کے مجسمے جو پردار بیل ہیں اور انسانی سر رکھتے ہیں، اب بھی اسی مقام پر موجود ہیں۔ شہر نمرود کی تباہی سے ایک ہفتہ پہلے جہادی گروپ نے ایک ویڈیو کی نمائش کی تھی، جس میں مسلح عسکریت پسند مختلف قسم کی ہتھوڑیوں سے قدیم شاہکاروں کو جو موصل میوزیم میں تھے، تباہ کر رہے ہیں۔ اس حملہ سے لوگوں میں بے چینی اور پریشانی پھیل گئی ہے۔ بعض ماہرین آثار قدیمہ و تہذیبی ورثہ نے اس کا تقابل 2001ء میں افغانستان کے بامیان بدھا مجسموں کی طالبان کے ہاتھوں تباہی سے کیا ہے۔ یونیسکو کی ڈائرکٹر جنرل آئرینا بوکووا نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے، تاکہ بین الاقوامی عدالت فوجداری موصل میوزیم کی تباہی کے واقعہ کا جائزہ لے سکے۔