محمد ریاض احمد
حیدرآباد 14 فروری : ویسے تو ہم اپنے لئے جیتے ہیں لیکن خود کیلئے جینا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کو دوسروں کیلئے وقف کردینا سب سے بڑی بات ہے اس لئے کہ خدمت خلق سب سے بڑی عباد ت ہے ہمارے نبیﷺ نے بار بار امت کے ضرورت مندوں ‘یتیم و یسیروں ‘بیواؤں و معذورین کی خدمت کا حکم دیا ہے بھوکوں کو کھانا کھلانے ‘ننگوں کو کپڑے پہنانے کی ہدایت دی ہے ۔ مظلوموں کی مدد اور ظالموں کو ظلم سے روکنے کی تلقین کی ہے ۔ اللہ عزو جل کا شکر ہیکہ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ایسی شخصیتیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کیلئے خدمت خلق میں مصروف ہیں یہ ایسے لوگ ہیں جو ضرورت مند کا مذہب رنگ و نسل اور ذات پات نہیں دیکھتے بلکہ اس کی محتاجی کو دیکھ کر مدد کیلئے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ قارئین ……سیاست نے ایسے ہی بے لوث افراد کی حوصلہ افزائی کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ چنانچہ ایسے بے لوث خدمات انجام دینے والوں میں قدیم شہر کے تاریخی محلہ سلطان شاہی کے رہنے والے سید سلیم الدین ہیں 42 سالہ اس با حوصلہ شخص نے اتنی کم عمری میں سماجی خدمات کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جو شائد 80‘90 سال کی عمر میں دوسرے لوگ قائم نہ کرسکے ۔ سید نعیم الدین مرحوم اور رابیعہ بیگم مرحومہ کے اس جانباز فرزند کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہیکہ انہوںنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر سلطان شاہی سے جادوگروں‘عاملوں اور خود ساختہ باباؤں کا صفایا کرایا ورنہ ہزاروں بھولے بھالے لوگ ان جادوگروں و عاملوں کی دھوکہ دہی کا شکار بنتے ہوئے ایمان کی دولت سے محروم ہورہے تھے‘خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید سلیم الدین فتح میدان کے قریب کار ڈیکوریشن کے کارباور سے وابستہ ہیں غریبوں و معذورین کی مدد کو انہو ںنے اپنی زندگی کا مقصد بنالیا ہے وہ معذورین بیواؤں اور ضعیف مرد و خواتین کو حکومت کی جانب سے دیئے جانیو الے وظائف دلانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ سید سلیم الدین بتاتے ہیں کہ ہمارے شہر میں بہت سے مرد ، خواتین اور بچے ذہنی و جسمانی طور پر معذور ہیں حکومت انہیں ماہانہ 1500 روپئے وظیفے دیتی ہے تاہم اس کیلئے ہڈیوں کے ڈاکٹروں سے سرٹیفکیٹ کا حصول لازم ہے لیکن اس طرح کے سرٹیفکیٹ کا حصول بہت مشکل بنادیا گیا ہے نتیجہ میں معذورین اور ان کے رشتہ داروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سید سلیم کے خیال میں پہلے معذورین کے رشتہ داروں کو چاہئے کہ عثمانیہ ‘گاندھی ‘ایرا گڈہ چیسٹ ہاسپٹل ‘سروجنی دیوی اور کنگ کوٹھی اسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے فارم داخل کریں اور تاریخ دیئے جانے کے بعد معذورین کو لے جائیں جن سے وہ اور معذور اپنی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں ۔ سید سلیم طلباء و طالبات اور بیواؤں و ضعیف مرد و خواتین کو انکم سرٹیفکیٹ دلانے میں بھر پور رہنمائی کرتے ہیں ۔ سید سلیم الدین کی طرح مشیر آباد کے رہنے والے 40 سالہ محمد شاہد خدمت خلق میں مصروف ہیں محمد میراں عرف چیف صاحب کے اس فرزند نے زمستان پور مشیر آباد کے عوام کو سرکاری اسکیمات سے مستفید کرانے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ انہو ںنے معذورین بیواؤں اور ضعیف حضرات کو وظائف دلانے کیلئے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں ۔ برف کا ہول سیل کاروبار کرنے والے محمد شاہد نے گھر گھر سروے کے دوران بھی مقامی عوام کی بہتر انداز میں مدد و رہنمائی کی ۔ شادی مبارک اسکیم سے استفادہ کیلئے غریب مسلم خاندانوں میں شعور بیدار کیا ساتھ ہی متعدد درخواستیں داخل کرائیں ۔ وہ علاقہ میں سوائن فلو سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے بھی مہم چلارہے ہیں ۔ انکم اور بی سی سرٹیفکیٹس کیلئے بھی وہ اپنے ساتھیوں محمد اشفاق‘ محمد شبیر خان ‘محمد غوث ‘ محمد کلیم الدین اور محمد جعفر کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ ایم آر او سجاتا میڈم کا بھی انہیں تعاون حاصل ہے ۔ خدمت خلق میں مصروف افراد میں ملک پیٹ کے رہنے والے 65 سالہ محمد عبدالرؤف بھی شامل ہیں اے پی ایس آر ٹی سی میں سکیوریٹی سب انسپکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے جناب محمد عبدالرؤف ‘سرکاری اسکولوں کی حالت زار سدھارنے ‘غریب طبقات کو سرکاری اسکیمات سے استفادہ کرانے کیلئے کوششوں میں مسلسل مصروف ہیں۔ انہوں نے گاؤں گاؤں پھر کر منڈل واری سطح پر مسلمانوں کے مسائل معلوم کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ۔ تلنگانہ مائناریٹی سنگھم کے بانی اور جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ایم اے رؤف خان صاحب عمر آباد، عالم پور، جڑچرلہ ‘ گدوال، اچم پیٹ‘کونڈہ ناگول اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں سرگرم ہیں ۔ بہر حال یہ ایسی شخصیتیں ہیں جو دوسروں کیلئے ایک مثال ہیں۔