کوئی عہدیدار جواب دینے کے موقف میں نہیں ‘حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتر ‘مریضوں ‘ طبی عملہ اور ڈاکٹرس کو بھی مشکلات
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : دواخانہ عثمانیہ کی حالت کو بہتر بنانے حکومت تلنگانہ کی جانب سے پہلی مرتبہ گزشتہ بجٹ میں 100 کروڑ روپئے مختص کئے تھے اس کے باوجود دواخانہ کی حالت میں بہتری تو پیدا نہیں ہوئی لیکن سال گزشتہ کی حالت سے زیادہ ابتر حالت ہوچکی ہے ۔ حکومت نے بجٹ میں 100 کروڑ کی تخصیص کا اعلان تو کیا تھا لیکن یہ جاری کئے گئے یا نہیں اس کے تعلق سے کوئی وضاحت نہیں ہے مگر دواخانہ کی حالت دیکھنے کے بعد کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے بجٹ جاری کیا جاتا تو دواخانہ کی حالت میں کچھ تو بہتری نظر آتی ۔ حکومت کی جانب سے مختص کردہ بجٹ کے استعمال کیلئے مدات بھی واضح کردئیے گئے تھے ۔ لیکن اب بھی یہ اعلانات صرف کاغذ کے ٹکڑے پر ہیں جس کے سبب دواخانہ کی حالت میں کوئی سدھار نہیں ہوپایا ہے ۔ دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت جو کہ تاریخی ورثہ کی حامل عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے اس کی تزئین ، تعمیر و مرمت کیلئے حکومت نے 28 کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس مقصد کی تکمیل کیلئے کہا جارہا ہیکہ آئندہ 5 برسوں میں یہ عمل مکمل کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں دواخانہ کو عصری سہولتوں سے آراستہ کرنے کے دعوے کئے گئے جو کہ وفا نہیں ہوسکے ۔ بلکہ دواخانہ میں عصری سہولتوں کی فراہمی تو کجا دواخانہ کو درکار آلات غیر کارکرد ہیں ۔ جس کے سبب مریضوں کو ہی نہیں بلکہ ڈاکٹرس کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ دواخانہ میں نہ اسٹاف کی درکار تعداد موجود ہے اور نہ آلات دواخانہ کی مناسبت سے موجود ہیں ۔ ایسی صورت میں دواخانہ عثمانیہ سے رجوع ہونے والوں کی کیا حالت ہوتی ہوگی اس کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے ۔ حکومت نے سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ دواخانوں کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ اعلانات صرف اعلانات کی حد تک محدود ہیں ۔ ان پر عمل آوری کے متعلق محکمہ صحت کا کوئی عہدیدار جواب دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔ عثمانیہ دواخانہ کے بجٹ میں تذکرہ اور علحدہ بجٹ کی تخصیص سے عوام کو حکومت سے وابستہ ہوئی تھیں کہ اب تلنگانہ حکومت کے دور میں عثمانیہ دواخانہ کی حالت میں تبدیلی رونما ہوگی لیکن عوام کی ان امیدوں کو حکومت نے پورا نہ کرکے انہیں مایوس کردیا ہے ۔ دواخانہ عثمانیہ کے تعلق سے صرف غریب عوام ہی مایوس نہیں ہیں بلکہ حکومت کی سرد مہری کے سبب خود دواخانہ کے عملہ میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ دواخانہ میں خدمات انجام دے رہے ایک فرد نے بتایا کہ حکومت کے بجٹ میں دواخانہ کے نام پر علحدہ تخصیص سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ دواخانہ کی حالت میں سدھار آئے گا اور آئندہ بجٹ تک حالات تبدیل ہونے شروع ہوجائیںگے لیکن حکومت کی ٹال مٹول پالیسی نے دواخانہ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جس کی وجہ سے حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے ۔ دواخانہ کو درکار آلات کی عدم موجودگی صرف طبی عملہ کو نہیں بلکہ مریضوں کو دشواریوں کا سامنا ہے ۔ جب مریض کو فوری درکار آلات دواخانہ میں ہی موجود نہ ہوں یا غیر کارکرد ہوں تو طبی عملہ سوائے دوسرے دواخانہ کو روانہ کرنے کا مشورہ دینے کے علاوہ کیا کرسکتا ہے ۔ حکومت کو اگر مریضوں کو سرکاری دواخانوں میں علاج کی جانب راغب کروانا ہے تو کم از کم فوری طور پر شہری علاقوں میں موجود بڑے سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنائیں تاکہ غریب عوام کے علاج میں سہولت ہوسکے ۔