دفتر لیفٹننٹ گورنر دہلی میں ڈپٹی چیف منسٹر سیسوڈیہ کی بھوک ہڑتال

وزیر صحت ستیندر جین کی غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری ۔ چیف منسٹر کجریوال نے ایل جی آفس میں ایک اور رات گذاری

نئی دہلی ۔ 13 جون ۔( سیاست ڈاٹ کام ) ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سیسوڈیہ نے آج لیفٹننٹ گورنر کے دفتر میں غیرمعینہ بھوک ہڑتال شروع کردی ، جہاں چیف منسٹر اروند کجریوال اور اُن کے کابینی رفقاء نے متواتر دوسری رات گذاری ۔ گزشتہ روز وزیر صحت ستیندر جین نے وہیں پر بھوک ہڑتال شروع کی تاکہ اپنے مطالبات قبول کروانے دباؤ ڈالا جاسکے ۔ ایل جی سے عام آدمی پارٹی حکومت کے مطالبات میں آئی اے ایس آفیسر کو اپنی ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت دینا ، چار ماہ سے کام پر نہ آنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا شامل ہے ۔ حکومت نے لیفٹننٹ گورنر سے راشن کی گھر گھر فراہمی کی تجویز کو منظور کرنے کیلئے بھی زور دیا ہے ۔ کجریوال نے آج صبح ایل جی آفس سے ٹوئٹ کرتے ہوئے جاننا چاہا کہ آیا آئی اے ایس آفیسر کیلئے پی ایم او سے ہری جھنڈی کے بغیر کام پر واپس آنا ممکن ہے ۔ کیا آئی اے ایس آفیسر محض کٹھ پتلی نہیں بن گئے ہیںجنھیں مودی حکومت استعمال کرتے ہوئے دہلی حکومت کے اچھے کاموں کو دباکر رکھنا چاہتی ہے ۔ ایک دیگر ٹوئٹ میں کجریوال نے کہاکہ دہلی کی ترقی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اُن کی جدوجہد جاری ہے ۔ ٹوئٹر کے ذریعہ اعلان کرتے ہوئے کجریوال اور اُن کے کابینی رفقاء نے بتایا کہ وہ پیر کی شام 6 بجے ایل جی آفس میں اپنے دھرنا کی شروعات کے باوجود سرگرمی سے سرکاری ڈھانچہ سے ربط میں ہے ۔ سیسوڈیہ نے کہاکہ وہ بھی ایل جی آفس میں ستیندر جین کے ساتھ غیرمعینہ بھوک ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔ ستیندر جین نے گزشتہ روز سے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے ۔ گزشتہ روز کجریوال نے ایل جی آفس سے ایک ویڈیو جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ عآپ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ دفتر لیفٹننٹ گورنر میں دھرنا منظم کیا جائے کیونکہ لیفٹننٹ گورنر بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومت دہلی کے مطالبات کو نظرانداز کررہے ہیں ۔ دہلی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی چیف منسٹر اور اُن کے کابینی رفقاء نے اپنے مطالبات پر زور دینے کیلئے بطور احتجاج ایل جی کے دفتر میں رات گذاری ہوں ۔ اس اقدام پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں بھی ہورہی ہیں ۔ دہلی بی جے پی یونٹ نے اسے جمہوریت کا مذاق قرار دیا ہے
یشونت سنہا بھی ایل جی آفس تک احتجاجی مارچ میں شامل
حکومت دہلی اور لیفٹننٹ گورنر کے درمیان آئی اے ایس افسران کی ’’ہڑتال‘‘ پر جاری لڑائی میں آج مزید شدت پیدا ہوگئی جب بی جے پی سے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سابق وزیر وزیرفینانس یشونت سنہا نے سیول لائنس پر واقع چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے باہر عآپ کے ہزاروں قائدین اور کارکنوں میں شامل ہوگئے جہاں سے لیفٹننٹ گورنر کے دفتر کی سمت مارچ منظم کیا گیا۔ یشونت سنہا نے عآپ کے قائدین و کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کیا اورکجریوال و عآپ کی جدوجہد کی تائید کی اور کہا کہ اگر سابق وزیراعظم واجپائی وہاں ہوتے تو وزیرداخلہ کو اس بحران کا حل تلاش کرنے کی ہدایت دیتے لیکن موجودہ حکومت ’’سو رہی ہے‘‘ اور سارے ملک کو دہلی کی صورتحال پر تشویش ہے۔