حیدرآباد کے 15 غوطہ خوروں کی شمولیت ، نرسمہا ریڈی کا بیان
منڈی /13 جون ( پی ٹی آئی ) ہماچل پردیش کے تفریحی مقام کولو کے قریب دریائے بیان میں بہہ جانے والے حیدرآباد کے ایک خانگی انجینئیرنگ کالج سے وابستہ 25 کے منجملہ 17 لاپتہ طلبہ کی تلاش مزید شدت کے ساتھ آج دوبارہ شروع کردی گئی ۔ اس مہم میں مزید مایہ غوطہ خوروں اور دیگر اہلکاروں کو شامل کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کے وزیر داخلہ نائنی نرسمہا ریڈی نے جو یہ المیہ پیش کرنے کے بعد اتوار سے یہاں کیمپ کئے ہوئے ہیں کہا کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مزید 15 غوطہ خور آج سے اس تلاشی مہم میں شامل ہو رہے ہیں ۔ حیدرآباد کے بچوپلی علاقہ میں واقع وی این آر وگیانا جیوتی انسٹی ٹیوٹ آف انیجنئیرنگ اینڈ ٹکنالوجی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 طلباء اور چند ارکان اسٹاف تعلیمی سیر و تفریح کیلئے منالی پہونچے تھے کہ اس گروپ کے 25 ارکان اس وقت دریائے بیاس میں بہہ گئے جب تھلوٹ کے قریب لارجس ہائیڈرو پاور پراجکٹ کے ذخیرہ سے اچانک پانی چھوڑ دیا گیا تھا ۔ تلنگانہ کے ضلع کھمم کے ٹی اوپندر اور حیدرآباد کے جی اروند کمار کی نعشیں گذشتہ روز دستیاب ہوئی تھیں ۔ جس کے ساتھ ہی تاحال دستیاب نعشوں کی تعداد آٹھ تک پہونچ گئی ہے۔