درگاہوں کے متولیوں کو حکم التواء دینے سے ہائی کورٹ کا انکار

سی ای او نے نوٹس جاری کردی ، 8 مارچ کو تحقیقات کے لیے حاضر ہونے کی ہدایت

حیدرآباد۔/6مارچ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی جانب سے ریاست کی تین اہم درگاہوں کے متولیوں کی معطلی سے متعلق کارروائی پر حکم التواء دینے سے ہائی کورٹ نے انکار کردیا۔ وقف بورڈ نے وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے تین متولیوں کی معطلی اور اُن کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا۔ معطلی کے احکامات پر حکم التواء کیلئے بتایا جاتا ہے کہ تین درگاہوں کے متولی عدالت سے رجوع ہوئے تاہم جسٹس ولاس افضل پورکر پر مشتمل بنچ نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے متولی کو ہدایت دی کہ وہ وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کا جواب دیں تاہم عدالت نے کوئی راحت دینے سے انکار کیا۔ اسی طرح درگاہ حضرت بابا فخر الدین ؒ پینو کونڈہ اور درگاہ حضرت محمد محمداللہ حسینی چشتی ؒ ( امین پیر ) کڑپہ کے متولیوں کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں کی سماعت آئندہ منگل کو مقرر کی ہے۔اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ تینوں متولیوں کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی ہے اور انہیں 8 مارچ کو تحقیقاتی افسر کے روبرو حاضر ہوتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کرنی ہوگی۔ اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہوں تو وقف بورڈ مزید کارروائی کرتے ہوئے معطلی کو جاری رکھے گا۔ تینوں متولیوں کے خلاف تحقیقات کیلئے اسپیشل آفیسر نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے حمید کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے اور انہیں دس دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ درگاہ حضرت امین پیر ؒ کڑپہ، درگاہ حضرات یوسفین ؒ اور درگاہ بابا فخر الدین ؒ کے متولیوں کو مختلف بے قاعدگیوں کے الزامات کے تحت معطل کیا گیا ہے۔ان تینوں درگاہوں کی جانب سے وقف بورڈ کو سالانہ حساب کتاب پیش کرنے میں ناکامی اور آمدنی کے مطابق وقف فنڈ کی عدم ادائیگی کے سبب کارروائی کی گئی ہے۔ اسی دوران رحمت آباد ضلع نیلور میں واقع درگاہ حضرت نائب رسول اور اسی ضلع کی درگاہ حضرت بارہ شہیدؒ کے سلسلہ میں بھی وقف بورڈ نے کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ رحمت آباد کی درگاہ کی جانب سے 1955ء سے وقف بورڈ کو وقف فنڈ ادا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح درگاہ حضرت بارہ شہید ؒ کے انتظامات کی نگرانی مقامی تحصیلدار کررہے ہیں اور درگاہ سے ہونے والی ساری آمدنی تحصیلدار اپنے اکاؤنٹ میں جمع کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تحصیلدار کے اکاؤنٹ میں درگاہ کی آمدنی سے 51لاکھ روپئے بطور ڈپازٹ موجود ہیں۔ اس رقم کو حاصل کرنے کیلئے وقف بورڈ نے کارروائی کا آغاز کیاہے۔