دتہ خیل میں جھڑپ و بمباری، 37 افراد ہلاک

راولپنڈی۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستان کے قبائیلی علاقہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی ’ضربِ عضب‘ جاری ہے۔ فوجی عہدیداروں کے مطابق دتہ خیل کے علاقہ میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ اور جیٹ طیاروں کی تازہ فضائی بمباری میں افسر سمیت تین فوجی اور 34 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دتہ خیل کے علاقہ میں تلاش کارروائی کے دوران فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجہ میں افسر سمیت 3 فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہوئے جب کہ سات شدت پسند مارے گئے۔ فوج اور شدت پسندوں کے درمیان یہ جھڑپ گزشتہ شب ہوئی تھی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک اور پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دتہ خیل میں جیٹ طیاروں کی تازہ فضائی بمباری میں 27 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

اس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اہم شدت پسند کمانڈر اور غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی ضربِ عضب میں اہداف کے مطابق پیشرفت جاری ہے۔ اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے کمانڈر میجر جنرل ظفراللہ خان خٹک نے شمالی وزیرستان کے علاقہ میر علی میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کو پانچ ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقہ کو پاک کردیا گیا ہے۔ فوج کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک اور 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کلے گئے ہیں۔ میجر جنرل ظفراللہ کے بقول شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی میں شمالی وزیرستان کے علاقہ میر علی، میراں شاہ، دتہ خیل، بویا اور دیگان کا بڑا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کارروائی کے باعث حقانی نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے افغانستان منتقل ہوگیا ہے۔ کمانڈر نے مزید کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے زیر استعمال مختلف گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ بارودی مواد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میراں شاہ سے فوج نے 7 کیلو گرام جب کہ میر علی سے 23 ہزار کیلوگرام بارود برآمد کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران 4000 سے زیادہ بارودی سرنگیں تباہ کی گئی ہیں۔ کمانڈر نے امریکہ کے محکمہ دفاع کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ میجر جنرل ظفراللہ نے بتایا کہ ایسٹ ترکستان اِسلامک موومنٹ کے کمانڈروں کو بھی فوجی کارروائی میں ہلاک کیا گیا ہے اور اس تنظیم کا شمالی وزیرستان میں نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کے نمائندوں کو بھی میر علی لایا گیا تھا اور ان کو مشاہدہ کروایا گیا تھا۔ میجر جرنل ظفراللہ نے کہا کہ پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کی تقریباً ڈھائی ارب روپئے کی جنگی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان میں وہ رقم شامل ہے جو ہتھیار خریدنے، اسلحہ، انفراسٹرکچر، تیار آئی ای ڈی، بارودی مواد، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مواصلاتی نظام، وغیرہ شامل ہیں۔