داعش سے ہندوستانیوں کی معمولی تعداد متاثر

نئی دہلی 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) انٹرنیٹ کے ذریعہ ملنے والی اطلاعات سے متاثر ہوکر ہندوستانی نوجوانوں کی ایک معمولی تعداد آئی ایس آئی ایس (داعش) میں شمولیت کے لئے ملک چھوڑ کر گئی ہے۔ راجیہ سبھا کو آج یہ بات بتائی گئی۔ منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ ہری بھائی پرتھی بھائی چودھری نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ چند نوجوانوں کی آئی ایس آئی ایس کی سمت رغبت صرف سائبر دنیا سے ملنے والی اطلاعات ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور انٹلی جنس ایجنسیوں کو ایسے عناصر کی شناخت کرتے ہوئے اِن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس ضمن میں سائبر سرگرمیوں پر بھی قریبی نظر رکھی جارہی ہے۔

نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ہندوستانی نوجوانوں کی آئی ایس آئی ایس میں شمولیت سے متعلق تمام واقعات کی تحقیقات کی غرض سے ایک فوجداری مقدمہ درج کیا ہے۔ اِس ضمن میں اب تک ایک شخص کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ممبئی کے مضافاتی کلیان سے تعلق رکھنے والے نوجوان عارف مجید کو آئی ایس (مملکت اسلامیہ) سے واپسی کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے دیگر تین ساتھی بھی وہاں گئے ہوئے تھے جو اب تک واپس نہیں ہوئے۔

بنگلور کے ایک ایکزیکٹیو مہدی محبوب بسواس کو مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایس کی تائید کرنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے کے سلسلہ میں گزشتہ ہفتہ گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے چودھری نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کی ہندوستان میں اڈے قائم کرنے کی کوششوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ تحریک طالبان پاکستان ۔ جماعۃ الاحرار نے 2 نومبر کو واگھا سرحد پر پاکستانی سمت ہوئے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کل پشاور میں ایک اسکول پر دہشت گرد حملے کے لئے بھی ذمہ دار قرار دی جارہی ہے جس میں 141 افراد ہلاک ہوئے اور اِن میں اکثریت کمسن اسکولی بچوں کی ہے۔ چودھری نے کہاکہ دہشت گرد تنظیم اور اُس کی تمام شاخیں ہندوستانی مفادات کے خلاف کام کررہی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے چند کمانڈرس نے اسلامک اسٹیٹ کے امیر ابوبکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ کئی گرفتار دہشت گردوں نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے روبرو یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی ہندوستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔