خواتین پر مظالم کی روک تھام کے لیے قوانین موجود لیکن عمل ندارد

حیدرآباد /19 نومبر ( سیاست نیوز ) پروفیسر شاتا واہنا یونیورسٹی شریمتی سجاتا سروے پلی نے ایفلو یونیورسٹی میں پیش آئے طالبہ کی عصمت ریزی واقعہ کی تحقیقات کروانے کے سلسلہ میں وائس چانسلر ایفلو سنینا سنگھ کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی پر شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ غفلت برتنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں ۔ فورم فار ڈیموکرٹیک رائٹس ان (ای ایف ایل یو ) ایفلو یونیورسٹی کے زیر اہتمام احاطہ عثمانیہ یونیورسٹی میں منعقدہ جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سارے ملک میں خواتین پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور عصمت ریزی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ عصمت ریزی کے واقعات پر قابو پانے کیلئے قانون میں بھی ترمیمات کئے گئے لیکن ان قوانین پر عمل ندارد ہے ۔ جس کے نتیجہ میں شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عصمت ریزی واقعات میں ملوث ملزمین کو حکومت سخت سے سخت سزا دے تاکہ وہ آئندہ کبھی اس کی جانب راغب ہونے نہ پائے۔ انہوں نے کہا کہ ایفلو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایفلو یونیورسٹی کے کیمپس میں پیش آئے واقعہ کی تحقیقات پر توجہ دینے کے بجائے وہ طالبات پر ہی مختلف قسم کے شکوک و شبہات اور ان پر الزامات عائد کر رہے ہیں اور وائس چانسلر بجائے واقعہ کی تحقیقات کروانے کے سیاسی پشت پناہی اور پولیس کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ یہ مسئلہ ایک سنگین ہے جس کا حل انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کیا جائے گا ۔

اس موقع پر پروفیسر ملکوٹے نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر ایفلو عصمت ریزی واقعہ میں بجائے کالج کی متاثرہ طالبہ کی مدد کرنے کے وہ مخالفت کرتے ہوئے طالبہ پر طرح طرح کی ریمارکس کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ فوری وائس چانسلر ایفلو سنینا سنگھ کو برطرف کردیا جائے ۔ اس موقع پر ریٹائرڈ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر نے مخاطب کرتے ہوئے وائس چانسلر ایفلو یونیورسٹی کے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ نامناسب رویہ اور طلباء کو ہراسانی کے علاوہ عصمت ریزی واقعہ کی تحقیقات میں ذاتی عمل دخل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انیویشی ریسرچ سنٹر نائب صدر شریمتی ساجایا نے مخاطب کرتے ہوئے وائس چانسلر ایفلو کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا عصمت ریزی کے واقعات پر قابو پانے کیلئے پرائمری اسکول سطح سے لیکر کالج اور یونیورسٹی سطح تک Sexual Harrasment Committe کی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ۔ اس موقع پر مشہور گلوکار جئے راج نے بھی مخاطب کیا اور خواتین پر ہونے والے مظالم پر نظم پیش کی ۔ اس موقع پر ایفلو یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اپنے منہ پر سیاہ پٹی باندھے ہوئے تھے ان کے علاوہ دیگر عثمانیہ یونیورسٹی کے طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔ قبل ازیں ایفلو یونیورسٹی کے طلباء نے ایفلو یونیورسٹی تا عثمانیہ یونیورسٹی ریالی منظم کی ۔