خزانہ بلڈنگ گولکنڈہ میں راجہ دین دیال کی فوٹو گیلری!ی

محکمہ آرکیالوجی و میوزیمس کے پاس صرف 150 تصاویر ، 1.7 کروڑ مالیتی پراجکٹ پر عمل ضروری

حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : کسی بھی ملک اور علاقہ کے سنہری ماضی کا اندازہ وہاں کے تاریخی آثار تہذیب و تمدن اور اس ملک اور علاقہ کے حکمرانوں کی رعایا پروری سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں ماضی کی تصاویر اور پینٹنگس کافی اہمیت رکھتی ہیں ۔ تصاویر چاہے وہ کسی دور کی کیوں نہ ہو بڑی آسانی سے خاص و عام کو گذرے ہوئے کل کی شاندار یادوں سے واقف کروانے کا اہم ذریعہ ہے ۔ غرض تصاویر جہاں نئی نسل کو ماضی کی داستاں بیان کرتی ہیں وہیں حال کو محفوظ کرتے ہوئے آنے والی نسل کے لیے تاریخ سے واقف ہونے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے ۔ قارئین! حیدرآباد دکن کی خوبصورت اور فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں آصف جاہی دور میں حکمرانوں امراء اور عام شہریوں کے لباس ان کے رہنے سہنے کے انداز کے بارے میں راجہ دین دیال کی لی ہوئی تصاویر سے بہت کچھ معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خاں کی حوصلہ افزائی کے باعث عالمی سطح پر منظر عام پر آئے فوٹو گرافر راجہ دین دیال نے اپنے کیرئیر کے دوران نہ صرف حیدرآباد دکن بلکہ ہندوستان کی مختلف عمارتوں ، باشندوں ، واقعات کو اپنے کیمرہ میں قید کرتے ہوئے 40 ہزار سے زائد تصاویر بنائے ۔ جن کے ذریعہ نئی نسل حیدرآباد کی عظمت رفتہ سے اچھی طرح واقف ہوسکتی ہے ۔ نواب میر محبوب علی خاں بہادر المعروف محبوب علی پاشاہ کے درباری فوٹو گرافر راجہ دین دیال کی پیشہ وارانہ مہارت کو دیکھتے ہوئے انہیں ملکہ وکٹوریہ کا بھی خصوصی فوٹو گرافر بنایا گیا تھا ۔ لیکن افسوس ہندوستان میں فوٹو گرافی کی علامت سمجھے جانے والے اس عظیم فوٹو گرافر کی حکومتی سطح پر کوئی قدر نہیں کی گئی ۔

ہاں راجہ دین دیال کی تصویر اور ان کی بنائی گئی تصاویر پر مشتمل ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا ۔ ساتھ ہی ملک کے مختلف مقامات بشمول نئی دہلی ، ممبئی ، چینائی اور حیدرآباد ( سالار جنگ میوزیم ) میں راجہ دین دیال کی تصاویر کی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے اس نامور فوٹو گرافر کی یاد میں ان کی ناقابل فراموش خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی تصاویر کا ایک میوزیم قائم کیا جائے ۔ ڈپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمس نے سال 2006 میں اس بات کا اعلان کیا تھا ۔ تاریخی گولکنڈہ سے متصل خزانہ بلڈنگ ( خزانہ میوزیم ) میں 1.40 کروڑ کے مصارف سے راجہ دین دیال کی لی ہوئی نادر و نایاب تصاویر کی گیلری قائم کی جائے گی لیکن 9 سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ اس ضمن میں کچھ نہیں کیا گیا ۔ لیکن اب ریاستی حکومت آصف جاہی دور کے اس شاہی فوٹو گرافر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 2006 میں اعلان کردہ پراجکٹ کو حقیقی شکل دینے پر غور کررہی ہے ۔ ڈپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گیلری کے لیے خزانہ بلڈنگ قلعہ گولکنڈہ کا پہلے ہی انتخاب کیا جاچکا ہے ۔ اور 2008 میں خزانہ بلڈنگ کی تزئین نو کے لیے 1.7 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تاہم 2010 میں کام شروع ہوا ۔ سردست یہ کام تکمیل کے قریب ہے ۔ مذکورہ محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس میوزیم میں رکھنے کے لیے راجہ دین دیال کے تقریبا 150 تصاویر ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مجوزہ گیلری کے لیے مزید تصاویر کہاں سے لائی جائیں گی ؟ اس سلسلہ میں ہمارے شہر کے ممتاز فوٹو گرافر جناب ایس شاہ علی کا کہنا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ و میوزیمس راجہ دین دیال کے ارکان خاندان سے ربط پیدا کرتے ہوئے کثیر تعداد میں تصاویر حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں راجہ دین دیال کی پوتری بہو اوما دین دیال ان کی مدد کرسکتی ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے شہر میں دکن ہیرٹیج جیسے کچھ ادارے ہیں جو نہ صرف راجہ دین دیال کی لی ہوئی تصاویر بلکہ حیدرآباد دکن سے متعلق قدیم نادر و نایاب کتب مخطوطات کرنسی سکے ، پہناوے ( لباس ) وغیرہ کے بارے میں تفصیلات فراہم کرسکتے ہیں ۔ شہر کے ممتاز مورخ اور منیجنگ ٹرسٹی جناب محمد صفی اللہ جیسی حرکیاتی شخصیت سے بھی اس معاملہ میں مدد لی جاسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ 1844 میں پیدا ہوئے راجہ دین دیال کو نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں بہادر نے 1885 میں اپنا درباری فوٹو گرافر بنایا تھا اور انہوں نے ہی انہیں مصور جنگ راجہ بہادر کا خطاب عطا کیا تھا ۔ ریاستی محکمہ آرکیالوجی و میوزیمس مجوزہ گیلری کے لیے اندرا گاندھی نیشنل سنٹر فار آرٹس IGNCA سے بھی مدد لے سکتا ہے ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ راجہ دین دیال کی فوٹو گیلری کا قیام حقیقت میں تبدیل ہوگا یا نہیں ۔۔