خانگی اسکولس میں من مانی فیس وصولی ، محکمہ تعلیمات کی کھلی چھوٹ

اولیائے طلبہ میں گہری تشویش ، سیاسی جماعتیں مسئلہ کو انتخابی منشور میں شامل کریں

حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : محکمہ تعلیمات کی جانب سے خانگی اسکولوں کو فیس کی وصولی کے معاملہ میں فراہم کردہ چھوٹ کے باعث اولیائے طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ انتخابات اور تعلیمی سال کے آخری ایام اولیائے طلبہ کو یہ موقعہ فراہم کررہے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں پر اسکولی تعلیم کی فیس کے تعین کے مسئلہ کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں ۔ اسکولوں میں وصول کی جانے والی فیس سے نہ صرف اولیائے طلبہ پریشان ہیں بلکہ محکمہ تعلیم بالخصوص ضلع انتظامیہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے متعلق فکر مند ہے ۔ خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں من مانی اضافہ اور ان پر کوئی سرکاری کنٹرول نہ ہونے کے سبب اولیائے طلبہ پر ہر سال تعلیمی فیس کے بوجھ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ تعلیم کی فراہمی گذشتہ زمانے میں باعث خدمت تصور کی جاتی تھی لیکن اب تعلیمی اداروں کا جال ایک صنعت کے طور پر پھیلنے لگا ہے اور ان تعلیمی اداروں کے جال میں مختلف درجات کے تعلیمی ادارے وجود میں آچکے ہیں ۔ چند برسوں کے دوران تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آنے لگا اور آج کارپوریٹ تعلیمی اداروں میں ادارے اپنی مرضی کے مطابق فیس وصول کرنے لگے ہیں اور ان پر کوئی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث اولیائے طلبہ بھی یہ فکر میں ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں اور شکایت بھی کریں تو کس سے کریں ؟

چند برس قبل اس مسئلہ پر ہوئی کافی ہنگامہ آرائی کے بعد ضلع انتظامیہ نے چند رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود بھی مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔ بیشتر نامور تعلیمی ادارے تعلیمی سال 2014-15 کے آغاز سے 50 فیصد تک فیس میں اضافہ کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں جب کہ بعض لعلیمی اداروں میں 20 تا 30 فیصد تعلیمی فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے اسکول کی تعلیمی فیس کے معاملہ میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن وہ اس ناراضگی و برہمی پر مجبوری کے باعث خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ کے دفتر کے ذرائع کے بموجب اس سلسلہ میں متعدد شکایات وصول ہورہی ہیں اور مسئلہ کے حل کے لیے فوری طور پر اقدامات کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے ۔ خانگی اسکول انتظامیہ کے ذمہ داروں کا استدلال ہے کہ بڑھتی ہوئی گرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اساتذہ و غیر تدریسی عملہ کی تنخواہوں میں اضافہ کے سبب وہ تعلیمی فیس میں اضافہ کے لیے مجبور ہیں جب کہ اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ کئی ادارے من مانی فیس کی وصولی کے ذریعہ سرپرستوں پر مالی بوجھ عائد کررہے ہیں ۔ اولیائے طلبہ کی تنظیموں کی جانب سے اس بات کی بھی متعدد شکایات وصول ہورہی ہیں کہ کئی خانگی اسکول بالخصوص کارپوریٹ تعلیمی ادارے قانون حق تعلیم پر عمل آوری سے بھی اجتناب کرتے ہوئے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔

اوسط خانگی تعلیمی ادارے جو کہ کارپوریٹ طرز پر نہیں چلائے جاتے بلکہ عرصہ دراز سے خدمت انجام دے رہے ہیں ان تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کی شکایت ہے کہ جب کبھی فیس میں اضافہ کا مسئلہ اٹھتا ہے تو ایسی صورت میں سب سے زیادہ مشکلات کا شکار وہ بنتے ہیں چونکہ ضلع انتظامیہ و محکمہ تعلیم کی جانب سے چھوٹے تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور ریکارڈ میں یہ دکھادیا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی کردی گئی ہے لیکن کسی بھی کارپوریٹ طرز کے تعلیمی ادارے کو پابند بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے جس کے سبب اسکولی تعلیم بھی منافع بخش تجارت میں تبدیل ہونے لگی ہے ۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے ضلع انتظامیہ سے اس بات کی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل خانگی اسکولوں میں تعلیمی فیس کے تعین کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے انہیں پابند بنائیں ۔۔