خانگی اسکولس میں فیس ادائیگی کا دباؤ خطرناک نتائج میں تبدیل

طلبہ کو اسکول سے خارج کرنے کا اختیار نہیں ، امتحانات میں شرکت سے روکنا ہتک کے احساس کے مترادف
حیدرآباد۔26جولائی (سیاست نیوز) خانگی اسکولوںمیں فیس کے مطالبہ اور فیس کے لئے طلبہ کو خوار کرنے کے کئی ایک انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوچکے ہیں اس کے باوجود خانگی اسکولوں کا رویہ طلبہ اور اولیائے طلبہ کے ساتھ جوں کا توں برقرار ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کے مطابق کسی بھی خانگی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے طالب علم کو انتظامیہ کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی کی بنیادپر اسکول سے نام خارج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی فیس کے سلسلہ میں طالب علم سے بات کی جا سکتی ہے بلکہ اسکول انتظامیہ کو فیس کی وصولی کے لئے اولیائے طلبہ یا سرپرستوں کو مطلع کرنا چاہئے جبکہ بیشتر خانگی اسکولو ںمیں یہ طریقہ کار رائج ہے کہ فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں بچوں کو امتحان سے روکا جاتا ہے یا انہیں کلاس میں داخل ہونے نہیں دیا جاتاجس کے سبب بچہ ہتک محسوس کرنے لگتا ہے ۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں کی نفسیات انتہائی حساس ہوتی ہیں اسی لئے ان پر فیس کے لئے دباؤ ڈالنے کے یہ طریقہ کار مناسب نہیں ہوتے اسی لئے اسکول انتظامیہ کو فیس کے متعلق بچوں سے بات ہی نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی بھری کلاس میں ان کو فیس کے لئے یاددہانی کروائی جانی چاہئے کیونکہ بچہ والدین یا سرپرستوں کے حالات سے واقف نہیں ہوتا اور دیگر ساتھی طلبہ کے درمیان وہ خود کو کمتر محسوس کرنے لگ جاتا ہے جس کے سبب اس کی نفسیات پر منفی اثرات ہونے لگتے ہیں۔طلبہ میں مثبت رجحانات پیدا کرنے کے لئے تمام خانگی اسکولوں کے ذمہ دار اور ماہرین تعلیم مختلف امور کر قطعیت دیتے ہیں لیکن جہاں فیس کا معاملہ آتا ہے اس معاملہ میں اختیار کردہ موقف تمام کوششوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ثابت ہونے لگتا ہے۔ خانگی اسکولو ںمیں فیس کے بار بار طلب کئے جانے کے سبب طلبہ کے انتہائی اقدام کے ایک سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں لیکن محکمہ تعلیم کی جانب سے اس سلسلہ میں سخت گیر کاروائی نہ کئے جانے کے سبب یہ سلسلہ جاری ہے۔حکومت نے قانون حق تعلیم کے نفاذ کو یقینی بنانے کی تاکید کی ہے اور خانگی اسکولوں کی جانب سے قانون حق تعلیم پر عمل آوری نہ کئے جانے کے باوجود بھی محکمہ تعلیم کی خاموشی معنی خیز ہے ۔خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے قانون حق تعلیم پر عمل آوری پر عمل نہ کئے جانے پر اختیار کردہ خاموشی کو توڑ تے ہوئے محکمہ تعلیم کی جانب سے اگر تمام اسکولوں سے ریکارڈ طلب کئے جانے لگیں اور اس بات کا جائزہ لیاجانے لگے کہ اسکول میں کتنے طلبہ کو قانون حق تعلیم کے تحت داخلہ فراہم کیا گیا تو ایسی صورت میںان غریب طلبہ اور خاندانوں کا فائدہ ہوسکتا ہے جو فیس کی ادائیگی سے قاصر ہیں اور احساس ندامت کے باعث اسکول انتظامیہ کا سامنا نہیں کر پا رہے ہیں۔